امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کاپنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ ،احاطے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:55:53 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:55:53 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:55:53 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:49:13 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:48:09 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 16:48:09 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 15:43:13 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 15:38:18 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 15:38:18 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 15:38:18 وقت اشاعت: 18/03/2014 - 14:08:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کاپنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ ،احاطے میں احتجاج

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18مارچ 2014ء) امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے اسمبلی کے احاطے میں احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف مستعفی ہو کر رکن قومی اسمبلی کاالیکشن لڑ کر وزارت خارجہ کا قلمدان اور حمزہ شہباز شریف صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیں ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے بارے میں میڈیا میں آنے والی رپورٹس دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے ۔ ابھی آمنہ کی خود سوزی کی وجہ سے پنجاب میں سوگ کی کیفیت تھی کہ بیس خواتین کے اغواء ،چنیوٹ میں ونی دی گئی عورت سے پانچ دن تک اجتماعی زیادتی کے بعد برہنہ درخت سے باندھ دینے اورشیخوپورہ میں خاتون کے پولیس تشدد سے ہلاکت کے واقعات سامنے آ گئے جبکہ روزانہ کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ۔

حوا کی بیٹی کی جتنی بے حرمتی موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہی ہے اس سے پنجاب کی گڈ گورننس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے ثبوت سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہلے تو ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوتی اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو پولیس خود ہی ملزموں کو بے گناہ قرار دے دیتی ہے ۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔ شہباز شریف مرکز کے معاملات سے باہر آ جائیں یہ دس کروڑ عوام کا صوبہ ہے یہاں ظلم بربریت کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس وقت آمنہ کے گھر گئے اور پانچ لاکھ روپے کی امداد دی جب وہ اس دنیا میں نہیں رہی کیا اس سے آمنہ وا پس آ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سالانہ اربوں روپے دئیے جاتے ہیں لیکن لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔ اس پراپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے پانچ منٹ کا واک آؤٹ کرتے ہوئے اسمبلی احاطے میں احتجاج کیا ۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے کے معاملات دیکھنے کی بجائے کبھی چین اور کبھی ترکی روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو سالانہ 77ارب روپے کے فنڈز دئیے جاتے ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی رائے ہے کہ وزیر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18/03/2014 - 16:48:09 :وقت اشاعت