مالی سال 2014-15ء کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوگا ،بجلی بحران کا خاتمہ ،امن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2014 - 22:44:57 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 22:40:58 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 22:17:36 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 22:17:36 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 20:13:15 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 20:01:41 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 20:01:41 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 20:01:41 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 19:59:01 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 19:56:08 وقت اشاعت: 17/03/2014 - 19:56:08
- مزید خبریں

لاہور

مالی سال 2014-15ء کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوگا ،بجلی بحران کا خاتمہ ،امن وامان کا قیام تر جیحات ہونگی‘ وزیر خزانہ پنجاب ، ریلیف کیلئے اقدامات اٹھائینگے ،ترقیاتی پروگرام بھی حکومت کی موجودہ اقتصادی و معاشی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر ہی تشکیل دیا جائیگا،میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کا پری بجٹ بحث کا آغاز، مظفر گڑھ واقعہ کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ‘ وزیر قانون رانا ثنا اللہ ،کورم کی نشاندہی پر حکومت تعداد پوری نہ کر سکی ، اجلاس (کل) صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17مارچ۔2014ء) پنجاب اسمبلی کے ایوان میں صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پری بجٹ بحث کا آغاز کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2014-15ء کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوگا ،بجٹ میں بجلی کے بحران کا خاتمہ اورامن وامان کا قیام حکو مت کی تر جیحات ہوں گی اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے ، حکومت نے 6اضلاع میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر منصوبہ بندی شروع کر رکھی ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان منصوبوں پر خاطر خواہ پیشرفت متوقع ہے،چولستان میں 100میگا واٹ کے سولر پاور پلانٹ کے منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا جائیگا اور اس میں بتدریج اضافہ کرتے ہوئے اسے 1000میگا واٹ تک لے کر جائینگے ۔

وہ سوموار کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پری بجٹ بحث کا آغاز کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ سازی میں ممبران اسمبلی کا کلیدی کردار ہے ،اراکین اسمبلی اپنی منصبی ذمہ داری کا پاس کرتے ہوئے اس اجلاس میں بھر پور شرکت فرمائیں اور مثبت تنقید اور تجاویز کے ذریعے ہماری رہنمائی فرمائیں تاکہ اگلے سال کا بجٹ صحیح معنوں میں عوامی جذبات کا عکاس ہو۔

میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت کھلے دل سے مثبت تنقید اور بہتر تجاویز پر غور کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پری بجٹ اجلاس کی روایت مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ دور حکومت میں شروع کی تھی تاکہ آئندہ سال کے مالی بجٹ کو عوامی نمائندگان اور عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے وفاق اور پنجاب کی سطح پر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ۔

رواں مالی سال کے دوران ہماری حکومت نے معاشی حالات کی بہتری کے لیے متعدد اصلاحات کیں جس کے نتیجے میں الحمداللہ آج حکومت پنجاب کے مالی وسائل پہلے کی نسبت بہتر ہیں تا ہم اب بھی ہمیں باہمی مشورے اور عوامی آرا ء کی روشنی میں متعدد اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تا کہ ہم وطن عزیز کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا سکیں۔ ہمارے صوبے کے 80فیصد وسائل وفاقی محاصل سے ہوتے ہیں ،صوبائی حکومت نے بھی اپنے ٹیکسوں اور دیگر محاصل میں وصولی کی صورتحال کو بہتر کیا ہے ۔

حکومت نے وزیراعلی کے بجٹ اجلاس میں کئے گئے وعدے کے مطابق اپنے انتظامی اخراجات میں 15فیصد کٹوتی کی ۔ا نہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی پروگرام بھی حکومت کی موجودہ اقتصادی و معاشی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر ہی تشکیل دیا جائے گا۔ جس میں غربت میں کمی ، روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی ، سماجی شعبہ جات مثلا تعلیم ، صحت ، صاف پانی کی فراہمی، فنی تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ، صنعتی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ، خوراک ، پانی اور انرجی کی صورت حا ل کو بہتر بنانا ، پرائیویٹ سیکٹر کی تمام شعبوں میں شراکت کی حوصلہ افزائی ، علاقائی توازن اور خواتین کی ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمار ی یہ کوشش ہو گی کہ آئندہ مالی سال میں جاری شدہ منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں اور مختص شدہ وسائل بہتر طریقے سے خرچ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2014-15تین سالہ (ایم ٹی ڈی ایف )منصوبہ کا حصہ ہو گا۔ جس میں پہلے سال یعنی 2014-15کیلئے سکیموں کا باقاعدہ اندراج ہو گا جبکہ باقی دو سالوں کیلئے اہداف مقرر کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2014-15میں جاری سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ رقوم مختص کی جائیں گی جو منصوبہ جات 70فیصد مکمل ہو چکے ہیں ۔ ان کو 100فیصد مکمل کرنے پر توجہ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پچھلے سالوں کے نامکمل منصوبہ جات جو کسی وجہ سے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں شامل نہ ہو سکے کو بھی سالانہ ترقیاتی فنڈ میں شامل کیا جائے گا تاکہ پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری ضائع نہ ہواور منصوبوں کومکمل کرکے بروئے کار لایا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندں کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ شعبہ جات میں فنڈ ز مختص کئے جائیں گے جو منصوبہ جات بیرونی امداد کے تحت شروع کئے گئے ہیں ‘ وہ لازمی طور پراے ڈی پی میں شامل کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود کے شعبہ جات مثلا تعلیم ، صحت ، صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی وغیرہ کیلئے خاطر خواہ رقوم مختص کی جائیں گی تاکہ حکومت اپنے اصلاحی منصوبوں کی تکمیل کر سکے۔

حکومت کی ترجیحات کے مطابق کم ترقی یافتہ اضلاع کو ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لانے کیلئے خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ خاص طور پر وہ اضلاع جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے ۔ مثلا جنوبی پنجاب ‘ چولستان اور بارانی علاقوں کی ترقی کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں ں پر فنڈز مہیا کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران اور عوامی نمائندوں کی نشاندہی پر جن منصوبوں کاا علان یا آغاز کیا‘ ان کو ترجیحی بنیادوں پر مالی سال 2014-15کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا تاکہ ان پر عملدآمد کو یقینی بنایا جا سکے ۔

اسی طرح موجودہ مالی سال کے دوران جناب وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے تحت جو ترقیاتی منصوبہ جات ضلعی پیکج کے تحت شروع کئے گئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے اگلے مالی سال میں مطلوبہ رقوم مہیا کی جائیں گی ۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر کی جانب سے قائمقام اسپیکر کو یاددہانی کرائی گئی کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ سوموار کے روز مظفر گڑھ واقع کی رپورٹ پیش کریں گے جس پر رانا ثناء اللہ نے نے پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مظفر گڑھ کا واقعہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے ۔

یہ ایک بنیادی سوچ ہے جس کیلئے جاگیردار ہونا ضروری نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کی جانب سے اپنے فرائض میں غفلت برتنے کے باعث معصوم بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے نادر کو بے گناہ قرار دینے میں بہت جلدی دکھائی جس کی مثال مثل سے بھی ملتی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا جبکہ ڈی پی او مظفر گڑھ نے بھی 18سالہ جواں بچی کے دو مرتبہ انصاف کی فراہمی کے لئے پیش ہونے کے باوجود ڈی پی او نے تفتیش تبدیل نہیں کی ۔

انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ فرائض میں غفلت برتنے والوں کو قانون کے مطابق سزا کی جائے گی تاکہ آئندہ کے لئے ایک مثال قائم ہو۔اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کئے گئے اور شیخ علاؤ الدین اور نگہت شیخ کی جانب سے 4تحاریک پیش کی گئیں جن کے جواب آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیئے گئے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سردار علی رضا دریشک کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی اور تعداد پوری نہ ہونے پر اجلاس کل منگل صبح تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

17/03/2014 - 22:17:36 :وقت اشاعت