پاکستان اور بھارت کو بڑے دل کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے ،چھوٹے چھوٹے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/03/2014 - 20:04:10 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 19:59:12 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 19:31:23 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:59:43 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:57:17 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:57:17 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:47:16 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:44:22 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:39:12 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 18:38:12 وقت اشاعت: 13/03/2014 - 17:27:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پاکستان اور بھارت کو بڑے دل کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے ،چھوٹے چھوٹے معاملات خود حل ہو جائینگے، حمزہ شہباز،باہمی تجارت کافروغ دونوں ممالک کی عوام کیلئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے ،وزیر اعظم ہمسایوں سے بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں،دونوں اطراف کے عوام ایک دوسرے سے بے پناہ پیار کرتے ہیں لیکن سازش ہو جاتی ہے ،مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سے بھارتی اداکار اوم پوری کی ملاقات

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مارچ۔2014ء) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت کافروغ دونوں ممالک کی عوام کیلئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے ، جب دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، وزیر اعظم نواز شریف کا واضح موقف ہے کہ ہم اپنے ہمسایوں سے بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بھارتی اداکار اوم پوری سے ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد اور عمران گورائیہ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ حمزہ شہبازشریف نے بھارتی اداکار اوم پوری کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں جس طرح کے مثبت جذبات کا اظہار کیا اور صاف گوئی سے کام لیامیری ان سے ملاقات کی شدید خواہش تھی ۔

انہوں نے کہاکہ 1997ء میں بھارت کے وزیر اعظم واجپائی خود چل کر پاکستان آئے اور انہوں نے مینار پاکستان کے سائے تلے کھڑے ہو کر کہا تھاکہ اب ہم دوریاں ختم کریں گے لیکن بد قسمتی سے امن عمل کو ڈی ریل کر دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری بار بر سر اقتدار آئی ہے لیکن ہماری آج بھی سوچ وہی ہے جو 1997ء میں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کھلاڑی ایک دوسرے کے میدانوں میں جا کر کھیل رہے ہیں ، اس سے قبل بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ یہاں آئے جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی وہاں گئے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین کے تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے لیکن انکی باہمی تجارت 74 ارب ڈالر ہے او ردونوں اسے آئندہ دس سالوں میں اسے 100ار ب ڈالر تک لیجانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی بہت سی چیزوں میں مماثلت ہے اور دونوں ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کی عوام بہتر زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے دونوں ممالک کو جنگیں لڑنے کی بجائے معاشی میدان میں آگے بڑھنا چاہیے دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ کا دونوں ممالک کی عوام کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے اوردل بڑے ہونے چاہئیں جس سے چھوٹے چھوٹے معاملات خود حل ہو جا ئیں گے ۔ اوم پوری نے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام ایک دوسر ے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی سازش کرتا ہے جسکی وجہ سے حالات دوری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کیلئے عوام کے درمیان وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے ۔

13/03/2014 - 18:57:17 :وقت اشاعت