عمران خان مذاکراتی کمیٹی کے ممبر بن جاتے تو پوری پارلیمنٹ کی نمائندگی ہو جاتی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:18:38 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:12:32 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:12:32 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:12:32 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:10:15 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:06:40 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:06:40 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 20:02:58 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 19:59:55 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 19:52:00 وقت اشاعت: 10/03/2014 - 19:52:00
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

عمران خان مذاکراتی کمیٹی کے ممبر بن جاتے تو پوری پارلیمنٹ کی نمائندگی ہو جاتی ‘ سید خورشید شاہ ،اگر مذاکرات میں فوج شامل ہوئی اور یہ ناکام ہو گئے تو اسکی ذمہ داری فوج پر عائد کی جائیگی، تحریک انصاف طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش کرکے ماورائے آئین اقدام کر رہی ہے ‘ اپوزیشن لیڈر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10مارچ۔2014ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلا ف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی کی تشکیل کے لئے اعتماد میں لے رہی ہے ، اگر عمران خان مذاکراتی کمیٹی کے ممبر بن جاتے تو پوری پارلیمنٹ کی نمائندگی ہو جاتی ،طالبان کہتے ہیں کہ فوج انکے خلاف آپریشن کرتی ہے اگر مذاکرات میں فوج شامل ہوئی اور یہ ناکام ہو گئے تو اسکی ذمہ داری فوج پر عائد کی جائے گی ، تحریک انصاف طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش کرکے ماورائے آئین اقدام کر رہی ہے ، تھر میں حالات اتنے برے نہیں جتنے میڈیا نے پیش کئے ہیں صوبائی حکومت نے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے ، عمرا ن خان کوپتہ ہونا چاہیے کہ صوبائی الیکشن کمشنر کا تقرر حکومتیں نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر کرتا ہے ، حکومت طالبان سے تو لڑ نہیں سکتی اور غریب مزدوروں پر حملہ کر دیتی ہے ۔

ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز لاہور ائیر پورٹ پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ تھر کے معاملے میں میں کسی کا دفاع نہیں کروں گا جو بہتر کرنے والا کام ہے اسے ہونا چاہیے ۔ تاہم تھر میں اتنے برے حالات نہیں جتنے میڈیا نے پیش کئے ۔ قدرتی آفت کو نہ میڈیا روک سکتا ہے او رنہ حکومت ۔ صوبائی حکومت نے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا ہے اور کئی افسران کو معطل کیا گیا ہے ۔

انہوں تحریک انصاف کی طرف سے طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تو ان سے پوچھا جانا چاہیے ۔ ایک کالعدم تنظیم کو ایسی پیشکش ماورائے آئین ہے اور ان لوگوں نے 60ہزار لوگوں کو شہید کیا ہے ۔ چلو حکومت تو مذاکرات کر رہی ہے لیکن مذاکرات کے نتائج سامنے آنے سے قبل طالبان کی اس طرح سے حمایت قابل افسوس ہے۔ انہوں نے لاہور اور اسلام آباد ائیر پورٹ پر ائیر لیگ کے کارکنوں کے اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طالبان سے تو لڑ نہیں سکتی لیکن مزدور ں پر حملہ کر دیتی ہے ۔

وزیر اعظم نواز شریف ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے طریقے جمہوریت کے لئے اچھے نہیں ہیں ۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات میں فوج کو شامل کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ فوج کو شامل نہیں کرنا چاہیے ۔ طالبان پہلے ہی کہتے ہیں کہ فوج انکے خلاف آپریشن کرتی ہے اور اگر مذاکرات میں فوج شامل ہوتی ہے او ریہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اسکی ذمہ داری فوج پر عائد کی جائے گی ۔

فوج کو اس سارے معاملے میں غیر جانبدار رہنا چاہیے او رحکومت جو بھی فیصلہ کرے فوج کو اس پرعمل کرنا چاہے ۔ انہوں نے طالبان کی طرف سے اس بیان کہ اصل طاقت فوج ہے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے بھی پانچ سال حکومت کی ہے اور سخت سے سخت فیصلے کئے ہیں جمہوری دور میں پارلیمنٹ اور ریاست ہی بااختیار ہوتی ہے ۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت بارے سوال کے جواب میں حکومت یہ عمل کر رہی ہے ۔ عمران خان ہی مذاکراتی کمیٹی کے ممبر بن جاتے تو پوری پارلیمنٹ کی نمائندگی ہو جاتی ۔

10/03/2014 - 20:06:40 :وقت اشاعت