لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر اور 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/03/2014 - 22:19:44 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 22:19:44 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 22:10:17 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 22:02:19 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 22:02:19 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 21:58:01 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 21:03:08 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:21:06 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:18:01 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:18:01 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:18:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر اور 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے انقلابی اعلانات ،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے خواتین کیلئے ایک اور جامع اصلاحاتی پیکیج کا اعلان کر دیا ، متعدد قوانین میں ترامیم ،چائلڈ میرج ، جہیز، شادی بیاہ کی تقریبات، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ اور نکاح نامہ میں ترامیم سے خواتین کو زیادہ حقوق ملیں گے،صوبائی کمیشن کا قیام، گھریلو ملازموں کے بارے میں جامع پالیسی بچوں کی پیدائش پر رجسٹریشن فیس ختم کرنا بھی پیکیج میں شامل، خواتین کے تعلیمی اداروں میں صرف خاتون ٹھیکیدار ہی کنٹین چلا سکے گی،ملک و قوم کی ترقی کے لئے خواتین کو عملی میدان میں آنا ہوگا ، محنت مزدوری کیلئے گھر سے نکلنے والی خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کو عبرت کا نشان بنا دیں گے،ایسے عناصر سے مجرموں جیسا سلوک ہوگا،وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا عالمی یوم خواتین کے موقع پرایوان اقبال میں تقریب اور پنجاب اسمبلی کے ا جلاس سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8مارچ۔2014ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جامع اور دور رس اصلاحات پر مبنی ایک اور پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت قوانین میں موجود ہر وہ اقدام ختم کیا جا رہا ہے جو صوبہ پنجاب میں خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل ہے،وزیراعلیٰ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ پنجاب حکومت 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبا و طالبات میں تقسیم کرے گی۔

وہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پرہفتہ کے روز ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران حقوق خواتین کے حوالے سے مختلف قوانین میں ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چائلڈ میرج ایکٹ ، جہیز اور دلہن کو دیئے جانے والے تحائف کے بارے میں ایکٹ، شادی بیاہ کی تقریبات کے بارے میں ایکٹ، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ، موجودہ نکاح نامہ، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ اور ٹھوس اثاثہ جات کی تقسیم کے بارے میں قوانین میں ترامیم کر رہی ہے۔

اس کے علاہ پنجاب میں خواتین کے حوالے سے صوبائی کمیشن قائم کیا گیا ہے،جس کے لئے چیئر پرسن کو بھی تعینات کر دیا گیاہے -، گھریلو ملازموں کے بارے میں جامع پالیسی لائی جا رہی ہے، بچوں کی پیدائش پر رجسٹریشن فیس ختم کی جا رہی ہے، جس سے بچیوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہو گی، خواتین کے تعلیمی اداروں میں صرف خاتون ٹھیکیدار ہی کنٹینیں چلا سکیں گی، ٹریڈ یونین میں عہدیداروں کے طور پر خواتین کی شمولیت لازمی ہو گی، خواتین کے لئے ویٹرنری ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا جائے گا، کارکنوں کی بیویوں کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ کا انتظام ہو گا، سکولوں کے نصاب میں مردوں اورخواتین کے درمیان مساوات پر مبنی اسباق شامل کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کو معاشی طور پر توانا بنائے بغیرمعاشرے میں انہیں مطلوبہ مقام نہیں دلایا جا سکتا۔ ہم نے اپنے پیکج میں ایسے پروگرام شامل کئے ہیں جو اس مقصد کے لئے براہ راست خواتین کے مددگار ثابت ہوں گے۔ ہم نے آنے والے دنوں میں خواتین کے لئے روزگار اور چھوٹے درجے پر تجارت کے مختلف النوع مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خواتین کی ترقی اور ان کی بہبود پر کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے،سال رواں 2014 میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خواتین کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

اسی طرح تمام سرکاری کارپوریشنوں اور اداروں اور کمپنیوں کے بورڈوں میں خواتین کا کم از کم 33 فیصد حصہ لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی اس کی معاشی سکیورٹی سے عبارت ہے اور اگر ہم واقعی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنانا پڑے گا۔ خواتین کے ساتھ صدیوں پر پھیلے ہوئے امتیازی سلوک اور ناانصافی کی تلافی کرنے کیلئے ہمیں ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ہم خواتین کے حوالے سے ایسی پالیسی اصلاحات لے کر آئے ہیں جس کے پیچھے قانون کی طاقت موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ محنت مزدوری کے لئے جو خواتین گھر سے نکلنے کا دلیرانہ فیصلہ کر کے معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں انہیں ہراساں کرنے والے افراد کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔کام والی جگہ پر کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنا ایک جرم ہے او رایسے افراد سے مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب ا سمبلی کے ا یوان میں آج خواتین کے عا لمی دن کے موقع پر متفقہ طو رپر خواتین کی مناسب نمائندگی پنجاب 2014 کا قانون منظور کیا گیا ہے جس پر میں اپوزیشن اور تمام معزز ایوان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/03/2014 - 21:58:01 :وقت اشاعت