پنجاب اسمبلی نے فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کا بل منظورکر لیا ،اپوزیشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:15:43 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:15:43 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:11:28 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:11:28 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:11:28 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:07:28 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 20:07:28 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 19:50:11 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 19:50:11 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 19:50:11 وقت اشاعت: 08/03/2014 - 19:05:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پنجاب اسمبلی نے فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کا بل منظورکر لیا ،اپوزیشن کی ترمیم کثرات رائے سے مسترد ،متفقہ منظور سمجھا جائے‘ اپوزیشن لیڈر،لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرینگے ،دھرنے کے دوران بد سلوکی کے واقعے کی انکوائری کرا کے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائیگی‘ وزیر اعلیٰ پنجاب، بل کی منظوری کے مرحلے کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی کے باعث ایوان میں شور شرابہ ہوتا رہا ،بل کا معاشرے کی عام خواتین کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،اپنے لوگوں کو نوازا نے کیلئے خانہ پری کی گئی ‘ اپوزیشن اراکین ،پوری دنیا خواتین کی ترقی کی بات کر رہی ہے ،صرف طالبان اور تحریک انصاف مخالفت کر رہی ہے ‘ وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8مارچ۔2014ء)پنجاب اسمبلی نے صوبے کے فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کا بل منظورکر لیا ، اس بل کے ذریعے 25992خواتین کو مختلف اداروں میں پالیسی اور فیصلہ سازی میں نمائندگی ملے گی ،اپوزیشن کی ترمیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، جبکہ اپوزیشن لیڈر میاں محمو دالرشید کا کہناتھاکہ بل کو متفقہ طور پر منظور سمجھا جائے ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بل کی منظوری پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کیلئے قانون لائیں گے اور مال روڈ پر دھرنے کے دوران خواتین مظاہرین سے بد سلوکی کے واقعے کی انکوائری کرا کے اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی ۔

بل کی منظوری کے مرحلے کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی کے باعث ایوان میں شور شرابہ جاری رہا ۔ترمیم پر بحث میں حصہ لیتے اپوزیشن اراکین کا کہنا تھاکہ اس بل کا معاشرے کی عام خواتین کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اسکے ذریعے مختلف اداروں میں اپنے لوگوں کو نوازا جائے گا ۔ پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس مقررہ وقت دو بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔

اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے مسودہ قانون خواتین کی مناسب نمائندگی پنجاب 2014ء پیش کیا جسے اپوزیشن کی ایک ترمیم کو کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے منظور کر لیا گیا ۔تاہم قائد ایوان وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی تقریر کے دوران اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ بل کو متفقہ طور پر منظور سمجھا جائے ۔خواتین کو مناسب نمائندگی دینے کیلئے پنجاب کے 27محکموں کے قوانین میں 66ترامیم کی گئی ہیں۔

بل کی منظوری سے فیصلہ ساز اداروں میں25992خواتین کو نمائندگی ملے گی۔ بل کی منظوری کے بعد ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ میں اس بل کی منظوری پر پنجاب اسمبلی کے معزز ایوان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ میں آج ہی ترکی کے دورے سے واپس پہنچا ہوں اور ترکی کے وزیر اعظم نے پاکستان آمد پر والہانہ استقبال کرنے پر پوری پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ترکی وہ اسلامی ملک ہے جہاں مساجد پانچوں نمازوں کے وقت بھری ہوتی ہیں جبکہ نماز جمعہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی لیکن ملک کی ترقی میں معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت او رعسکری قوت ہے اور اسکی ترقی دیکھ کر عقل دھنگ رہ جاتی ہے اورچین کی ایک ارب تیس کروڑ کی آبا دی میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر انقلاب لے کر آئی ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ چین کی حکومت اور قیادت نے پاکستان کے مسائل کو سمجھا ہے۔ چین نے ہر مشکل اور کڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور انہیں پتہ ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اندھیرے ہیں اور دہشتگردی نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ چین نے سات سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 32ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے جس سے پن بجلی ، انفراسٹر اکچر ، اکنامک کوریڈور اور ریلوے کے نظام کو مضبوط کرنے کے منصوبے مکمل کئے جائینگے ۔

ہمیں چین سے سالانہ ساڑھے ارب ڈالر ملنا ہے اور اگر ہم ایمانداری سے ان 32ارب ڈالر کا 70سے 80فیصد بھی حاصل کر لیں تو پاکستان سے ہمیشہ کے لئے اندھیرے ختم ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انکار نہیں کہ خواتین کے کردار کے بغیر خوشحالی کا خواب پورا ہو سکتا ہے اسی لئے ہم نے اس ایوان میں خواتین کو با اختیار بنانے کا بل پاس کیا ہے جس میں 25ہزار سے زائد خواتین کو مختلف اداروں میں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں با اختیا ربنا یاگیا ہے آج یہ پچیس ہزار ہیں تو آنے والے سالوں میں یہ تعدادپچیس لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔

حکومت نے پنجاب ایجوکیشن انڈولمنٹ فنڈ کے ذریعے پچیس ہزار بچیوں کو وظیفہ دیا جارہا ہے جبکہ لیپ ٹاپ سکیم میں ساٹھ فیصد بچیوں کو لیپ ٹاپ دئیے گئے ۔ چار ارب کے چھوٹے قرضہ جات کے اجراء میں پچاس فیصد قرضے خواتین کو دئیے گئے جبکہ وزیر اعظم یوتھ بزنس لون اسکیم میں بھی پچاس فیصد کوٹہ خواتین کے لئے مختص کیا گیا ہے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/03/2014 - 20:07:28 :وقت اشاعت