عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ایئرکیئرڈے کے حوالے سے یونیورسٹی آف ہیلتھ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:25:20 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:25:03 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:08:58 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:07:17 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:07:17 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:07:17 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:06:20 وقت اشاعت: 03/03/2014 - 14:06:20
پچھلی خبریں -

لاہور

عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ایئرکیئرڈے کے حوالے سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سیمینار کا انعقاد

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 3مارچ 2014ء) صوبائی وزیر سماجی بہبودہارون سلطان بخاری نے کہا ہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر‘ محکمہ صحت اور سپیشل ایجوکیشن کے ساتھ باہمی مشاورت اور منصوبہ بندی کے ذریعے بہرہ پن کے علاج اور سماعتی آلات کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کے سلسلہ میں تیزتر اقدامات بروئے کار لائے گا، اس سلسلے میں ڈاکٹر حضرات اور ماہرین کی تجاویز کے ذریعے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ ہمارے آنے والی نسلیں اس مرض سے محفوظ رہ سکیں۔

اس امر کا اظہار انہوں نے سوموار کے روز یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں انٹرنیشنل ڈے کے موقع پر کانوں کی بیماریوں اور اس کی حفاظت کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر ناموراورعالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر حضرات اور ماہرین طب ‘ محکمہ سماجی بہبود کے افسران اور این جی اوز کے نمائندے بھی موجود تھے۔صوبائی وزیرہارون سلطان بخاری نے کہا کہ سماعت سے محروم بچے بولنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔

ایسے بچے تعلیم اور مستقبل میں روزگار حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اگر ابتدائی عمر سے ہی بچوں کا طبی معائنہ باقاعدگی سے کراتے رہیں تو کوئی بعید نہیں کہ ایسے بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بعض والدین کسمپرسی کی حالت میں اپنے بچوں کا علاج معالجہ نہیں کرا پاتے ہیں ایسی صورت میں انہیں صوبے کے تمام ہسپتالوں میں قائم پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹیوں سے مستفید ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اب صوبہ بھر کے تمام ہسپتالوں میں جدید اور سائنسی طریقہ کار کی بنا پر بچوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی فراہمی جاری ہے جبکہ ایسے خاندان جو قوت سماعت کی بیماریوں میں مبتلا ہیں کی بھی بہتر‘ علاج معالجے کی فراہمی اور ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ یہ افراد فعال شہری کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں اور خاندان پر بوجھ بننے کی بجائے کارآمد شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔ قبل ازیں دیگر ڈاکٹرز این جی اوز نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔

03/03/2014 - 14:07:17 :وقت اشاعت