5 مرلہ گھروں پر ہم نے ٹیکس ختم کیا ، حکومت نے دوبارہ لگا کر غریبوں پر بجلی گرا دی‘ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:48:32 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:48:32 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:47:06 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:42:02 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:42:02 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:42:02 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:37:45 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:37:45 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:37:45 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:28:18 وقت اشاعت: 01/03/2014 - 20:28:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

5 مرلہ گھروں پر ہم نے ٹیکس ختم کیا ، حکومت نے دوبارہ لگا کر غریبوں پر بجلی گرا دی‘ چودھری پرویزالٰہی ،جنگلہ بس پر لگائی گئی رقم سے کئی ہسپتال اور سکول بن سکتے تھے، مریضوں کو مفت ادویات دی جاتیں، محنت کشوں کی رہائشی کالونیاں بن سکتی تھیں ،لیبر کالونیاں، سوشل سکیورٹی ہسپتال، میرج گرانٹ، ہر سال 10 لاکھ نوکریاں ہمارے مزدور دوست منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بجائے سہولتیں چھین لی گئیں ،تماشوں پر کروڑوں روپے ضائع کرنے کی بجائے سکولوں، کالجوں اور سپورٹس کی ضلعی تنظیموں کو فنڈز دینے سے کھیلوں کو فروغ مل سکتا تھا ،پنجاب این ایف سی سے 100 ارب روپے زائد ملنے کے باوجود شیخ چلی منصوبوں کے باعث بدحالی کا شکار ہے‘ مسلم لیگ ہاؤس میں پرلیبر کنونشن سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔1مارچ۔2014ء) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب میں 5 مرلہ کے گھروں پر ہم نے اپنے دور میں ان کا لگایا گیا ٹیکس ختم کر دیا تھا لیکن انہوں نے دوبارہ یہ ٹیکس لگا کر غریبوں پر بجلی گرا دی ہے، صرف ایک روٹ کی جنگلہ بس پر لگائی گئی اربوں کی رقم سے کئی ہسپتال اور سکول بن سکتے تھے، مستحق مریضوں کو مفت ادویات دی جاتیں جبکہ محنت کشوں کیلئے رہائشی کالونیاں بھی بنا سکتے تھے۔

وہ ہفتہ کے روز یہاں مسلم لیگ ہاؤس میں پرجوش اور عظیم الشان لیبر کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب میں ہمارے مزدور دوست منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بجائے موجودہ حکمرانوں نے محنت کشوں سے ہماری دی گئی سہولتیں بھی چھین لیں۔ کنونشن میں تمام بڑے شعبوں اور اداروں کے لیبر لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ خطاب کرنے والوں میں چودھری ظہیر الدین، سجاد بلوچ، شیخ فقیر حسین وڈیرا، راجہ امتیاز، چودھری محمد اشرف، رانا محمد حفیظ، شاہد سلیم اور عائشہ شیخ بھی شامل تھے۔

جبکہ سٹیج پر کامل علی آغا، محمد بشارت راجہ، چودھری ظہیر الدین، سید فقیر حسین بخاری، میاں منیر، میاں عبد الستار، شیخ عمر حیات، خواجہ طاہر ضیاء، سیمل کامران، ماجدہ زیدی، کنول نسیم، چودھری عبد الرزاق، چودھری بلال، عبد الغفور، محمد اشرف، ارشد حسین شاہ بخاری، حافظ عثمان، حافظ عمار، ناصرہ تاج، شاہد سلیم، محمد نواز، اسلام چوہان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے ہر سال روزگار کے 10 لاکھ مواقع پیدا کیے یہ محنت کشوں سے روٹی چھین رہے ہیں، دو وقت کی روٹی نہ ملنے کے باعث محنت کش اپنے بچے فروخت اور خودکشیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخوپورہ کی زرعی زمین کسانوں سے چھین کر انہیں بے روزگار کرنے کی بجائے پہلے سے قائم انڈسٹریل زون چلانے چاہئیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ بجلی اتنی مہنگی کر دی گئی ہے کہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے اب لوگ خود ہی کہنا شروع ہو جائیں گے کہ بجلی نہیں چاہئے، ہم نے عام اور غریب آدمی کیلئے سہولتیں فراہم کیں، پنجاب اب 700 ارب کا مقروض ہے جبکہ ہم نے 100 ارب کا سرپلس چھوڑا تھا، 35 ارب کے ہمارے دور کے تقریباً مکمل منصوبے یہ اگر چلنے دیتے تو پنجاب کا نقشہ تبدیل ہو سکتا تھا، این ایف سی ایوارڈ کی مد میں بھی پنجاب کو پہلے سے 100 ارب روپے زیادہ رقم ملنے کے باوجود شیخ چلی منصوبوں کے باعث ہمارے دور کا خوشحال پنجاب بدحالی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تماشوں پر کروڑوں روپے ضائع کرنے کی بجائے سکولوں، کالجوں اور ضلعی سپورٹس تنظیموں کو یہ فنڈز دینے سے صوبہ میں کھیلوں کو فروغ ملتا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ کنونشن میں منظور کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ چودھری پرویزالٰہی کی حکومت کی طرح تمام شہروں میں لیبر کالونیاں بنائی جائیں، ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل اور دیگر بڑے اداروں کی نجکاری نہ کی جائے، مزدوروں کی بیٹیوں کی میرج گرانٹ بحال کی جائے۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے صنعتی شہروں میں سوشل سکیورٹی ہسپتال تعمیر کروائے، 2 ارب مالیت کی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں لیبر کمپلیکس تعمیر کروایا، نئی لیبر کالونیاں تعمیر کروائیں، بیمار صنعتی ورکرز کے خوراک الاؤنس میں 100 فیصد اور ڈیتھ گرانٹ میں 50 فیصد اضافہ کیا، مزدور کی 2 کی بجائے تمام بیٹیوں کیلئے میرج گرانٹ کی منظوری دی اور یہ رقم 30 سے بڑھا کر 75 ہزار کر دی جبکہ اب ہمارے دور کی نسبت آٹا، چاول، گھی سمیت تمام اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

01/03/2014 - 20:42:02 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان