دفاعی پالیسی بنانا حکومتوں کا اختیار ہے عدالت کا نہیں‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:54:09 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:52:09 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:52:09 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:52:09 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:05:04 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:00:06 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 15:00:06 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 14:59:00 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 14:57:17 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 14:57:17 وقت اشاعت: 28/02/2014 - 14:52:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

دفاعی پالیسی بنانا حکومتوں کا اختیار ہے عدالت کا نہیں‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28فروری 2014ء)لاہور ہائیکورٹ نے طالبان کیخلاف آپریشن روکنے کیلئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے بارے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ دفاعی پالیسی بنانا حکومتوں کا اختیار ہے عدالت کا نہیں۔جمعہ کے روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ کاشف سلمانی نے موقف اختیار کیا کہ بظاہر حکومت اور طالبان میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور حکومت نے ممکنہ آپریشن شروع کر دیا ہے اس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو گالہٰذا اسے روکنے کے احکاما ت جاری کئے جائیں ۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ پہلے آپ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کو دو سوالوں کے جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے پہلے سوال میں کہا کہ یہ بتایا جائے کہ اگر ملک میں خانہ جنگی یا سول وار ہو تو عدالت کا دائرہ کار کیا ہے؟ اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حکومت کو کیا فائدہ ہے اور کیا نقصان ہے ۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی پالیسی بنانا حکومتوں کا اختیار ہے عدالت کا نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے 28 مارچ تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کر تے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

28/02/2014 - 15:00:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان