بھارت، امریکہ اور اسرائیل سمیت عالمی استعمار پاکستان میں امن نہیں چاہتے ‘ مولانا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:54:12 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:52:17 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:52:17 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:52:17 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:36:54 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:36:54 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:36:54 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:35:21 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:34:02 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:32:58 وقت اشاعت: 23/02/2014 - 20:32:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

بھارت، امریکہ اور اسرائیل سمیت عالمی استعمار پاکستان میں امن نہیں چاہتے ‘ مولانا سمیع الحق،مذاکرات سے ہی ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے،ملک کی سیکولر قوتیں اس کی مخالفت چھوڑ دیں‘ سربراہ جے یو آئی (س)

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 فروری ۔2014ء)جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ اور طالبان کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ مذاکرات سے ہی ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے،ملک کی سیکولر قوتیں اس کی مخالفت چھوڑ دیں،طالبان کیساتھ مذاکرات بہت ہی نازک امتحان ہے اور ہم پل صراط پر کھڑے ہیں۔اپنے ایک انٹر ویو میں سمیع الحق نے کہا کہ ملک میں جو آگ لگی ہوئی ہے اس میں آپریشن کی نہیں مذاکرات کی ضرورت ہے۔

بھارت، امریکہ اور اسرائیل سمیت عالمی استعمار پاکستان میں امن نہیں چاہتے اور یہی وجہ ہے کہ وہ طالبان کیساتھ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس مرحلے پر صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کے اس عمل کو آگے بڑھانا ہوگا کیونکہ مذاکرات سے ہی ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کی غلط پالیسیوں کا ہم آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

اگر وہ نائن الیون کے بعد یو ٹرن نہ لیتے اور امریکی جنگ کا حصہ نہ بنتے تو آج ملک دہشتگردی کی اس آگ میں نہ جل رہا ہوتا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ کا آغاز کیا اور مشرف نے اس پرائی جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس ایک غلط فیصلے کی وجہ سے پاکستان کے درو دیوار دہشت گردی سے ہل گئے اور وطن عزیز خود تاریخ کی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا شروع دن سے یہ موقف رہا کہ اس پرائی جنگ کا حصہ نہ بنا جائے لیکن مشرف سمیت پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اپنی ان پالیسیوں کو نہیں بدلا۔ پارلیمنٹ کی قراردادوں کو نظرانداز کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے طالبان کیساتھ مذاکرات کا آپشن استعمال کیا ہے۔ طالبان کیساتھ مذاکرات بہت ہی نازک امتحان ہے اور اس وقت ہم پل صراط پر کھڑے ہیں۔ ہم سیاسی و مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر خلوص نیت سے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہمارا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اس ملک میں امن قائم ہو اور اس کا واحد راستہ صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ امن کبھی جنگ کے ذریعے قائم ہوا ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔

23/02/2014 - 20:36:54 :وقت اشاعت