چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے پانچ سو علماء و مشائخ کے دستخطوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2014 - 23:45:00 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 23:45:00 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 23:43:41 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 23:43:41 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 23:27:58 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:38:05 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:38:05 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:33:15 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:33:15 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:33:15 وقت اشاعت: 22/02/2014 - 22:28:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے پانچ سو علماء و مشائخ کے دستخطوں کے ساتھ وزیراعظم کے نام خط ارسال کر دیا ،حکومت ریاست مخالف دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرنے کا دوٹوک اعلان کرے، ریاست کے باغیوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا جائے،دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کر کے آپریشن شروع کرنے کا دوٹوک اعلان نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج ،تمام شہروں میں دھرنے دینگے،پاک فوج کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے فری ہینڈ دیا جائے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر متفقہ نیشنل سکیورٹی پالیسی وضع کی جائے‘ خط میں مطالبہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 فروری ۔2014ء) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے پانچ سو سے زائد علماء و مشائخ کے دستخطوں کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو خصوصی خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ریاست مخالف دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرنے کا دوٹوک اعلان کرے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ریاست کے باغیوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کا فیصلہ کیا جائے۔

پاک فوج کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فری ہینڈ دیا جائے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر متفقہ نیشنل سکیورٹی پالیسی وضع کی جائے۔ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے دہشت گردوں کے حامیوں، ہمدردوں اور سرپرستوں کو ریاستی گرفت میں لایا جائے اور پورے ملک میں ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے جرأت مندانہ اقدامات کیے جائیں۔ پچاس ہزار شہداء کے قاتلوں سے مذاکرات شریعت اور آئین کے منافی ہیں۔

پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے افسروں اور جوانوں کے قتل کا بدلہ لینا حکومت پر قرض اور فرض ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان پر شرعی مقدمہ چلایا جائے اور طالبان سے پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کا قصاص طلب کیا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی مصلحتوں اور بزدلی کی وجہ سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور مذاکرات کے اعلان کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس لیے اب حکومت گومگو کی پالیسی چھوڑ کر پاکستان بچانے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھائے۔ حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ کے آئینی تقاضے پورے کرے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے کیونکہ ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو سبق سکھانا ضروری ہو گیا ہے اور ملکی سلامتی سے کھیلنے والے باغیوں اور انتہاپسندوں کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

فوجیوں کے گلے کاٹنے والے کسی رحم اور رعایت کے مستحق نہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث مکتبہٴ فکر کو ریاستی سطح

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22/02/2014 - 22:38:05 :وقت اشاعت