جس طرح دہشت گردی کی موجودگی میں مذاکرات ممکن نہیں اسی طرح جہازوں سے بمباری کی دھول ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:54:19 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:37:08 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:36:18 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:35:31 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:28:19 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:32 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:32 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:02 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:02 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:27:02 وقت اشاعت: 21/02/2014 - 20:24:43
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جس طرح دہشت گردی کی موجودگی میں مذاکرات ممکن نہیں اسی طرح جہازوں سے بمباری کی دھول میں بھی مذاکرات نہیں ہوسکتے ‘ سید منور حسن ،وزیر اعظم امریکی و بھارتی دباؤ کو مسترد اور طاقت کے استعمال کے مطالبوں کو نظر انداز کرکے مذاکرات کی میز دوبارہ بچھائیں ، آپریشن تباہی کا راستہ اور عوام اور فوج کے درمیان نفرتوں کی دیوار کھڑی کرنے کی سازش ہے ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 فروری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ جس طرح دہشت گردی کی موجودگی میں مذاکرات ممکن نہیں اسی طرح جہازوں سے بمباری کی دھول میں بھی مذاکرات نہیں ہوسکتے ،وزیر اعظم امریکی و بھارتی دباؤ کو مسترد اور طاقت کے استعمال کے مطالبوں کو نظر انداز کرکے مذاکرات کی میز دوبارہ بچھائیں ،جو ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے اسے وزیر اعظم ہی پورا کرسکتے ہیں کوئی اور نہیں ، آپریشن تباہی کا راستہ اور عوام اور فوج کے درمیان نفرتوں کی دیوار کھڑی کرنے کی سازش ہے ،وزیر اعظم نے اب تک جس تحمل اور بردباری سے کام لیا ہے امید ہے اسی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ مذاکرات کے تعطل کو دور کردیں گے اور مذاکرات کی میز پر ایک طرف طالبان کے کسی ذمہ دار کو بٹھا کر دوسری طرف خود بیٹھیں گے تومسئلے کا حل نکل آئے گا،جیٹ طیاروں سے بمباری کرکے لوگوں کو دہشت زدہ تو کیا جاسکتا ہے کوئی ہدف یقینی طور پر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

بمباری سے بڑے پیمانے پر تباہی اورخوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے ،آپریشن والے علاقوں سے لاکھوں لوگ لٹے پٹے قافلوں کی شکل میں بنوں اور پشاور کی طرف ہجرت کررہے ہیں جن کیلئے خوراک اور رہائش کا مسئلہ انتہائی پریشان کن صورت اختیار کرچکا ہے ،حکومت کی پہلی ذمہ داری عوام کو رہنے کیلئے چھت مہیا کرنا ہوتی ہے مگر موجودہ حکومت لوگوں کوگھروں سے بے گھر کرکے ان کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے ،ظالم کے ظلم کو نظر انداز کرکے مظلوم کو ظالم بنا دینے سے معاشرہ ابتری کا شکار ہوجاتا ہے میڈیا کو یک طرفہ موقف دینے کے بجائے دوسرے کا موقف بھی پورا دینا چاہیے آدھی بات کر کے آدھی چھوڑ دینا انصاف نہیں ہے،وزیر اعظم دونوں کمیٹیوں کی بات سنیں اور قوم کو مایوسیوں کے حوالے کرنے کی بجائے امید کی کرن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

21/02/2014 - 20:27:32 :وقت اشاعت