بہتر ہوتا وزیراعظم خود مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ، نواز شریف دونوں کمیٹیوں کا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:24:21 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:24:21 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:21:15 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:21:15 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:21:15 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:18:08 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:17:13 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:17:13 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:16:32 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:16:32 وقت اشاعت: 19/02/2014 - 21:16:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

بہتر ہوتا وزیراعظم خود مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ، نواز شریف دونوں کمیٹیوں کا اجلا س بلا کر سیز فائر کا طریقہ کار طے کروائیں ‘ سید منور حسن ،ملک میں کسی جگہ بھی ہونے والی دہشتگردی کا الزام طالبان پر تھوپ دینا درست نہیں ، ملک میں کئی طاقتیں اور ایجنسیاں کام کر رہی ہیں ،ایران کی طرف سے پاکستان میں کاروائی کے بیان پر وزارت خارجہ نے تند و تیز جواب دے کر مناسب رویے کا اظہار نہیں کیا ‘ انٹرویو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19 فروری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سیدمنورحسن نے کہاہے کہ بہتر ہوتا اگر وزیراعظم نوازشریف مذاکراتی ٹیم کی خود قیادت کرتے ، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ان کی طرف سے افغانستان کے طالبان ، ملا عمر ، حامد کرزئی کا تعاون بھی حاصل کیا جاتا تو اس کے نتائج حوصلہ افزا ہوتے ، انہوں نے جو کمیٹی بنائی ہے اسے حکومتی کمیٹی نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس کے پاس اختیارات ہیں ، ملک میں کسی جگہ بھی ہونے والی دہشتگردی کا الزام طالبان پر تھوپ دینا درست نہیں ، ملک میں کئی طاقتیں اور ایجنسیاں کام کر رہی ہیں ،طالبا ن کے خلاف تو میڈیا پر بہت سی باتیں آ جاتی ہیں لیکن طالبان کا پورا موقف میڈیا پر نہیں آتا جس سے تصویر کا صرف ایک رخ عوام کے سامنے آتا ہے،ملک میں ہونے والی دہشتگردی کے درجنوں واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ سامنے آ چکاہے جس کا اعتراف سیکورٹی اداروں کے ذمہ دار اور خود وزیراعلیٰ پنجاب بھی کر چکے ہیں ،ایران کی طرف سے پاکستان میں کاروائی کے بیان پر وزارت خارجہ نے تند و تیز جواب دے کر مناسب رویے کا اظہار نہیں کیا ، پاکستان برادر اسلامی ملک ایران سے دشمنی کا متحمل نہیں ہوسکتا ،وزیراعظم دونوں کمیٹیوں کا مشترکہ اجلا س بلا کر سیز فائر کا طریقہ کار طے کروائیں اور اگر اس کے باوجود کسی طرف سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو اس کی تحقیقات کر کے دہشتگردو ں کا سراغ لگایا جائے ، حکومت کو چاروں طرف نظر رکھنا ہوگی بجائے اس کے کہ تمام واقعات کا الزام طالبان پر لگادیا جائے دہشتگردی کے تدارک کے لیے بیرونی فرقہ وارانہ اور لسانی دہشتگردی کا بھی قلع قمع کرنا چاہیے ۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سیدمنورحسن نے کہاکہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک سرکاری کمیٹی کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور اکوڑہ خٹک میں طے شدہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے سے پیدا ہوا ۔ سرکاری مذاکراتی کمیٹی کو اکوڑہ خٹک جاناچاہیے تھا ۔ اکوڑہ خٹک نہ جاکر مذاکرات کی ٹرین کا کانٹا بدل دیا گیا۔ وہ اجلاس میں جاتے اور سوال و جواب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

19/02/2014 - 21:18:08 :وقت اشاعت