ایک رسمی ایک حقیقی جمہوریت ہوتی ہے ، جمہوری قدروں کا تحفظ نہ کیا گیا تو حقیقی جمہوریت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/02/2014 - 22:19:58 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 22:19:58 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 22:13:53 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 21:06:07 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 21:04:33 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 21:04:33 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 21:04:33 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 20:31:59 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 20:26:47 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 20:26:06 وقت اشاعت: 15/02/2014 - 20:26:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

ایک رسمی ایک حقیقی جمہوریت ہوتی ہے ، جمہوری قدروں کا تحفظ نہ کیا گیا تو حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا‘ جسٹس تصدق حسین جیلانی،نعروں ، کلچر اور کردار میں فرق نہیں ہونا چاہیے ،اسلام اور آئین اقلیتوں کو برابری کے حقوق دیتا ہے ،برداشت کے کلچر کو بھی فروغ دینا ہوگا ،عدالت کے تعاون کے علاوہ ریاست کے دیگر ستونوں کا تعاون انصاف کیلئے ضروری ہے، چیف جسٹس پاکستان کا تقریب سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 فروری ۔2014ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ایک رسمی اور ایک حقیقی جمہوریت ہوتی ہے اگراداروں کو مضبوط اور جمہوری قدروں کا تحفظ نہ کیا گیا تو حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا،ہمارا اسلام اور آئین کہتا ہے کہ اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں گے اور ہمیں برداشت کے کلچر کو بھی فروغ دینا ہوگا ،دنیا میں 200کے قریب ممالک ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں بستے ہیں اگر ہم نے اقلیتوں کی عبادتگاہوں کا تحفظ نہ دیا تو ہماری عبادتگاہوں کو بھی خطرات لا حق رہیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پنجاب بار کونسل میں وکلاء کو سمارٹ کارڈ جاری کرنے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کے معززججز صاحبان ،لاء افسران اور بارز عہدیداروں کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ یہاں جمہوری نظام ہوگا ، قانون کی بالا دستی ہو گی اور اقلیتوں کے حقوق ہوں گے۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ یہاں پر عوام کو سستا انصاف میسر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک رسمی اور ایک حقیقی جمہوریت ہوتی ہے ۔ ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں انتخابات میں اکثریتی جماعت حکومت میں ہے ۔اگر غور سے دیکھیں تو حقیقی جمہوریت کا خواب اس وقت شرمندہ تعمیر ہو گا جب ہم آئین میں دی ئی قدروں پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے اسے معاشرہ میں عمل میں لے آئیں ۔

ہمارے نعروں ، کلچر اور کردار میں فرق نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں پانچ قدروں کا ذکر کروں گا جس میں آئین کی بالا دستی ،جمہوریت کا دفاع سر فہرست ہیں اور جمہوریت کے دفاع کے لئے وکلاء کی قربانیاں تاریخ کا سنہرا باب ہیں ۔ اسکے علاوہ قانون کی حاکمیت ہر فیصلے میں ہونی چاہیے ، ہمیں لوگوں کو قانونی طور پر طاقتور بنانا ہوگا ۔

انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں ان باتوں پر عملدرآمد سے پہلے وکلاء کو اسکی ابتداء اپنے آپ سے کرنی ہو گی ،وکلاء کو ایک مثال اور نمونہ کے طو رپر خود کو پیش کرتے ہوئے یہ بتانا چاہیے کہ ہم قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی تبھی ہو گی جب انصاف ملے گا ،چاہے سول جج ہو یا اعلیٰ عدلیہ کا جج سب کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اقلیتوں کے تحفظ اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا ، آئین اور اسلام کہتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق ہوں گے ۔ ایک دفعہ حضوراکرم ﷺ کی زندگی میں عیسائیوں کا قافلہ آیا لیکن اسے شام ہو گئی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/02/2014 - 21:04:33 :وقت اشاعت