پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کاترقیاتی فنڈز کے معاملے میں نظر انداز کرنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/02/2014 - 23:45:09 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 22:59:19 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 20:48:53 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 20:45:49 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 19:23:08 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 19:22:36 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 19:22:36 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 19:21:41 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 18:53:09 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 18:51:09 وقت اشاعت: 10/02/2014 - 18:38:39
- مزید خبریں

لاہور

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کاترقیاتی فنڈز کے معاملے میں نظر انداز کرنے پر احتجاج جاری ،اجلاس کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی،اگر حکومت ساتھ لے کر نہیں چلے گی تو اس ہاؤس کو نہیں چلنے دیں گے ،بائیکاٹ کرکے سڑک پرعوامی اسمبلی لگا لیں گے‘ اپوزیشن ،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے ،وزیر قانون پی پی اور (ق) لیگ کے اراکین کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا وقت طے کرائیں ‘ سردار شہاب الدین،ترقیاتی بجٹ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے ،اپوزیشن حکومتی معاملات میں شامل ہونا چاہتی ہے تو آ جائے اس سے بہتر پیشکش کرنے کو تیار ہیں ،وزیر قانون،ہم بھی چاہتے ہیں فیکٹریوں میں لیبر لاز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کئے جائیں ،اسمبلی سے ایسے قوانین پاس ہونے چاہئیں‘ وقفہ سوالات

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10 فروری ۔2014ء)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے ترقیاتی فنڈز کے معاملے میں نظر انداز کئے جانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے نہیں چلے گی تو اس ہاؤس کو نہیں چلنے دیں گے اور بائیکاٹ کرکے سڑک پرعوامی اسمبلی لگا لیں گے ، سردار شہاب الدین نے وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین اسمبلی کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا وقت طے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے اور حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ 90کی دہائی کو نہ دہرایا جائے جبکہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ترقیاتی بجٹ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے اگر اپوزیشن حکومتی معاملات میں شامل ہونا چاہتی ہے تو آ جائے انہیں اس سے بہتر پیشکش کرنے کو تیار ہیں ،تحریک انصاف والوں سے کہتا ہوں کہ گھر میں بیٹھ کر مشورہ کرلیں میاں محمود الرشید اپنے بھائی کی میرٹ پر تعیناتی کے باوجود اپنے ساتھ پارٹی میں ہونے والاسلوک دیکھ چکے ہیں ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس سوموار کے روز مقررہ وقت تین بجے کی بجائے چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول کے بعد وقفہ سوالات جاری تھا کہ حکومت کو آغاز پر ہی تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی رضا دریشک نے کورم کی نشاندہی کر کے مشکلات میں ڈال دیا اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسپیکر نے اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا ۔

دوبارہ اجلاس شروع ہونے کے بعد بھی حکومت کو کورم پورا کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا رہا اور ملک ندیم کامران اور دیگر حکومتی ذمہ داران لابی میں سے اراکین اسمبلی کو ایوان میں لاتے رہے ۔ پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کاقیام عمل میں لایا گیا ہے لیکن اس میں اپوزیشن کو نمائندگی نہیں دی گئی جبکہ اس کے برعکس ہارے ہوئے لوگوں کو ان کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے جس سے ہمارا استحقاق مجروح ہو رہا ہے ہم نے تحریک استحقاق بھی جمع کرائی ہے لیکن اسے نہیں لیا جارہا ۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ امتیازی سلوک جمہوریت کی نفی ہے ۔ وزیر قانون ہمیں انصاف کی یقین دہانی کرائیں ۔ اسکے جواب میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن اراکین نے مجھ سے متعدد بار بات کی ہے لیکن میں نے انہیں بتایا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا استعمال حکومت کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے ۔ حکومت نے اضلاع اور ریجن کی سطح پر ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی کے لئے ڈسٹر کٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیاں بنائی ہیں ۔

فنڈز کے معاملات ایوان کا فنکشن نہیں ہے اور رولز میں بھی ایسا کہیں نہیں لکھا ہوا ہے ۔ ان کمیٹیوں کو ایگزیکٹو آرڈر سے بنایا گیا ہے اور اس میں اراکین اسمبلی ،عام شہری اور ٹیکنو کریٹس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔اگر اپوزیشن حکومتی معاملات میں آنا چاہتی ہے تو ہم انہیں اس سے بہتر پیشکش کرنے کو تیار ہیں ۔ سردار شہاب الدین نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کس قانون کی بات کر رہے ہیں کہاں لکھا ہوا ہے کہ ہارے ہوئے لوگوں کوکمیٹیوں میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے اور حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ 90کی دہائی کو نہ دہرایا جائے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی ملاقات کے لئے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کا ٹائم فریم طے کرایا جائے ۔ رانا ثنا اللہ خان نے دوبارہ کہا کہ یہ معاملہ ایگزیکٹو فنکشن ہے اس کے لئے اپوزیشن کو وزیر اعلیٰ کو درخواست کرنا ہو گی اور حکومت کا حصہ بن جائیں ۔

اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ حکومت نے کمیٹیوں میں شکست خوردہ لوگوں کو شامل کر رکھا ہے اور یہ اراکین اسمبلی ، ایوان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/02/2014 - 20:45:49 :وقت اشاعت