جمہوریت کامیاب نہ ہو تو مزید جمہوری رویے کی ضرورت ہوتی ہے، آمریت اور ملٹر ی آپریشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:58:16 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:51:38 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:50:45 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:50:45 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:49:12 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:49:12 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:49:12 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:48:21 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:48:21 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:48:21 وقت اشاعت: 09/02/2014 - 20:28:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جمہوریت کامیاب نہ ہو تو مزید جمہوری رویے کی ضرورت ہوتی ہے، آمریت اور ملٹر ی آپریشن کبھی مذاکرات کا متبادل نہیں ہوتے ‘ سید منور حسن ، اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے ،طالبان کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی کمیٹی صرف رابطہ کار کا کردار ادا کررہی ہے ، امریکہ اور بھارت کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9 فروری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے ،طالبان کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی موجودہ کمیٹی صرف رابطہ کار اور مددگار کا کردار ادا کررہی ہے تاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان پائے جانے والے خدشات دورکرکے مذاکرات کے ماحول کو ساز گار بنایا جائے ، امریکہ اور بھارت کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجودمذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے ،سیکولر اور اسلام مخالف لابی قوم کے اندر ناامیدی اور مایوسی پھیلا رہی ہے، 73ء کا آئین بنانے والوں میں وہ جید علماء شامل تھے جنہیں آج کے علماء اپنا استاد مانتے ہیں، مفتی محمود ،مولانا عبدالحق ،علامہ شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسی قدآور قومی شخصیات آئین ساز کمیٹی میں شامل تھیں ،وہ کیسے قرآن و سنت کے منافی آئین تشکیل دے سکتے تھے ، آئین کو غیر اسلامی کہنے کی بجائے آئین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جانا چاہئے ، جس آئین کا پہلا نقطہ ہی یہ ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہوگا اور اس کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہوگا اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی یکجہتی کے لئے مضر ہے ،قوم 73ء کے آئین پر متحد ہے، اس اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکمران غیر آئینی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر آئین کی بالا دستی کو تسلیم کرلیں ،جن لوگوں کو شریعت اور آئین کی بات کرنے والوں سے تشد د کی بو آتی ہے وہ براہ راست اسلام کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کے ماننے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناکر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دعوة اکیڈمی کے پروفیسر مفتی مصباح الرحمن اور کوآڈی نیٹر ناصر فرید کی قیادت میں منصورہ کا دورہ کرنے والے خیبر پختونخواہ،بلوچستان ، وزیرستان ،سوات اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے صحافیوں کے وفد سے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/02/2014 - 20:49:12 :وقت اشاعت