جو لوگ شریعت کے نام سے چڑ تے ہیں آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں ،مذاکرات کی کامیابی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/02/2014 - 21:09:33 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 20:48:06 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 20:23:24 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 20:21:58 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 20:08:46 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 20:08:46 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 19:48:49 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 19:48:49 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 19:48:49 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 18:50:12 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 18:45:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جو لوگ شریعت کے نام سے چڑ تے ہیں آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں ،مذاکرات کی کامیابی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہوگی‘ سید منور حسن ،شریعت کا نام سن کرکسی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے ،شریعت کوئی خطر ناک یا ڈراؤنی چیز نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی اور بھلائی کیلئے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے،حکمران 73ء کے آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل ہوجائیگی ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 فروری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ شریعت کا نام سن کرکسی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے ،شریعت کوئی خطر ناک یا ڈراؤنی چیز نہیں بلکہ انسانیت کی راہنمائی اور بھلائی کیلئے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ، نفاذ شریعت کا مطالبہ نہ تو نیا ہے اور نہ غیر آئینی ،آئین پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کاسپریم لاء تسلیم اوریہ عہد کیا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا،حکمران 73ء کے آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو نہ صرف ملک مسائل کے گرداب سے نکل آئے گا بلکہ قیام پاکستان کے مقاصد کی بھی تکمیل ہوگی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا قومی وقار بھی بحال ہوجائے گا، ملکی ترقی اور عوامی فلاح کیلئے اغیار کے ناکام نظاموں کو آزمانے اور دربدر ٹھوکریں کھانے کے باوجودہم اللہ کی طرف رجوع کرنے کو تیار نہیں ہیں ، جو لوگ شریعت کے نام سے چڑ تے ہیں وہ دراصل آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں ،ملا ازم اور طالبانائیزیشن کی باتیں کرنے والے دراصل اسلام کے خلاف اپنا غصہ نکالتے ہیں ،مذاکرات کی کامیابی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ دانشوروں اور ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر گلگت و بلتستان کے ماہرین تعلیم نے شرکت کی اور ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری پر اپنے مقالہ جات پیش کئے ۔ سید منور حسن نے کہا کہ اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنا کر آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ 73ء کے آئین میں قرار دیا کیا گیا تھا کہ 15سال کے اندر اندر قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم اور دفتری زبان بنا دیا جائے گا مگر چالیس سال بعد بھی قومی زبان دفتری زبان کا درجہ حاصل کرسکی نہ اسے ذریعہ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/02/2014 - 20:08:46 :وقت اشاعت