موجودہ دور حکومت میں بجلی کے بحران پرقابو پانے کا وعدہ پورا کر ینگے،ایک ڈیڑھ سال ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/02/2014 - 16:29:47 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:44:17 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:43:23 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:43:23 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:43:23 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:42:15 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:36:40 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:35:18 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:35:18 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 15:32:55 وقت اشاعت: 08/02/2014 - 14:06:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

موجودہ دور حکومت میں بجلی کے بحران پرقابو پانے کا وعدہ پورا کر ینگے،ایک ڈیڑھ سال تک گیس کی کمی کا مکمل خاتمہ ہو جائیگا، وزیر اعظم ، مذاکرات کیلئے دونوں طرف سے قائم کمیٹیاں ایک دوسرے سے مل رہی ہیں اوربات کر رہی ہیں قوم کو اعتماد میں لیا جارہا ہے ، نواز شریف کا ایف پی سی سی آئی کی 37ویں سالانہ ایکسپورٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب ،میڈیا سے گفتگو

,

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8فروری 2014ء)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں بجلی کے بحران پرقابو پانے کا وعدہ پورا کر یں گے جبکہ ایک سے ڈیڑھ سال تک گیس کی کمی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا ،اگر درست پالیسیاں بنائی جاتیں تو ملک میں کبھی بھی دہشتگردی نہ ہوتی جسکی وجہ سے پوری پاکستان قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی اس میں کمی نہیں ہوئی ، سالہا سال پرانی بیماریوں کو ٹھیک کرنے کے لئے وقت درکار ہے ، جمہوریت کی منتقلی اچھی بات ہے اور اب اہمیں افہام و تفہیم اور برد باری کے ساتھ ایک دوسرے سے تعلق رکھنا چاہیے ،پاکستان سے بہت کھیل کھیل چکے اب مزید کھیل کھیلنے کی گنجائش نہیں ،معیشت ‘ دہشتگردی کا مقابلہ ہو اور پاکستان میں امن و امان کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے ،ہمیں جی ایس پی پلس کا درجہ تو مل گیا ہے لیکن جب اندسٹری نہیں چلے گی تو اسکا کیا فائدہ ؟،مذاکرات کیلئے دونوں طرف سے قائم کمیٹیاں ایک دوسرے سے مل رہی ہیں اوربات کر رہی ہیں ‘کمیٹی کے اراکین نہ صرف قوم کو اعتماد میں لے رہے ہیں بلکہ رمیڈیا کو بھی پیشرفت سے آگاہ کر رہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز مقامی ہوٹل میں ایف پی سی سی آئی کے 37ویں سالانہ ایکسپورٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرگورنر بلوچستان ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان‘ وفاقی وزیر تجارت اور ایف پی سی سی آئی کے سبکدوش ہونے والے اور نو منتخب عہدیداران بھی موجود تھے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ میں ایف پی سی سی آئی کی سالانہ تقریب میں شرکت کرکے نہایت خوشی محسوس کر رہا ہوں اور فیدریشن کو گزشتہ 36سالوں سے پر وقار تقریب باقاعدگی سے منعقد کرانے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ میں 37ویں ایکسپورٹ انعام یافتگان کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور چیمبر کی سالانہ تقریب ان کمپنیوں کو اپنی کارکردگی منوانے کا بہترن موقع فراہم کرتا ہے جو ایک جامع انداز مین انتظامی امور میں بہتری پیدا کر کے اپنے کاروبار میں ترقی اورسبقت او رپائیداری حاصل کرتی ہیں۔ کمپنیاں اس موقع کو نہ صرف اپنی کارکردگی کے لئے ایک معیار سمجھتی ہیں بلکہ اس کے ذریعے اپنے کاروبار میں مزید وسعت پیدا کرتی ہیں ۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ موجودہ گلوبل دنیا میں تجارت کی بنیاد روایتی تقابل اور فوقیت سے ہٹ کر اب مختلف ڈائریکشن اختیار کر گئی ہے اب تجارت کی شرط ،شرائط ایک فرم اور ادارے یا ملک کی اہلیت کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں جو جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی بدولت پیدا کردہ اشیاء کو گلوبل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں اس سلسلہ میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار اہمیت کا حامل ہے او رمیں ہمیشہ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں حکومت کم سے کم ہونی چاہیے اور جس کا کام اسی کو ساجھے کا اصول کارفرما ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام نہیں فیکٹریاں ں ،ہوٹل یا بزنس کے ادارے چلانا نہیں اس لئے میرا مضبوط موقف ہے اور میں اس اصول کو مانتا ہوں اورمیرا پختہ یقین ہے کہ جب سے ہماری حکومت آئی میں نے ہمیشہ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں وہ دن انتہائی افسوسناک تھا جب پاکستان کے اندر نیشنلائزیشن ہوئی تھی اور قومی اداروں کو نیشنلائز کیا گیا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بد قسمت دن تھا ورنہ اس سے پہلے پاکستان کس تیزی کے ساتھ دنیا میں ترقی کر رہا تھا ۔ پورے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر اس خطے میں سب کو پیچھے چھوڑتے جارہا تھا بلکہ ہم جنوبی کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ رہے تھے ۔

پنجاب ‘ خیبر پختوانخواہ ‘ سندھ اور بلوچستان کے اندر معاشی سرگرمیاں نظر آتی تھیں اور پاکستان کی ایکسپورٹ تیزی آگے بڑھ رہی تھی لیکن اگر اگر اس کو اسی طرح آگے بڑھنے دیا جاتا آج پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یہاں پر بیروزگاری اور مہنگائی کا کہیں ذکر نہ ہوتا ۔ غربت کا وجود نہ ہوتا جہالت کا وجود نہ ہوتا اور پاکستانی پڑھی لکھی قوم بن چکے ہوتے ۔

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے نیشنلائزیشن میں تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشا گیا ، انشورنس کمپنیوں اور بینکوں کو نیشنلائز کر دیا اور یہ بتدریج اربوں کھربوں کے نقصان میں چلے گئے اور جب ہم نے انہی بینکوں پرائیوٹائز کیا گیا تو یہ فائدہ میں گئے بلکہ نہ صرف انہوں نے خود اربوں روپے منافع کمایا بلکہ حکومت کو اربوں روپے ٹیکس دے رہے ہیں ۔

جو ادارے نیشنلائز ہوئے وہ بند پڑے تباہی پھیرتے رہے ۔ ان اداروں میں اپنی مرضی کے لوگوں کی سیاسی بھرتیاں کی گئیں جس سے یہ ادارے نہ صرف اپنی ایکسپورٹ کو قائم رکھ سکے بلکہ پیداوار گرتی چلی گئی پیسے بنانے والے اورجیبیں بھرنے جیبیں بھرتے رہے آج ان اداروں کا حال دیکھیں تو یہ پاکستان کی تباہی کا نقشہ پیش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی مشکل سے انہیں ریوائز کیا اگر یہ نجکاری نہ ہوتی تو یہ ادارے بھی ختم ہو چکے ہوتے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ماننا ہوگا کہ ہم نے بنیادی غلطیاں کی ہیں جسکا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی اور اسکے بعد پاکستان میں ترقی نام کی چیز ختم ہو گئی ۔ کیا ہمارے دور میں غلط کام ہو رہے تھے جو اس ملک کو توڑنے کی ضرورت پیش آ گئی ۔ ہمارے دور میں پاکستان کے اندر موٹر ویز بن رہی تھی ایک نئی معاشی سرگرمیاں شروع ہو گئی تھیں ۔ سٹاک مارکیٹ بڑھ رہی تھی اور پاکستان ریکارڈ گروتھ پیش کر رہا تھا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/02/2014 - 15:42:15 :وقت اشاعت