نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ، تحریک طالبان سنجیدہ ہے تو سیز فائر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/02/2014 - 14:03:40 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 14:03:40 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 14:03:40 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 14:02:32 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:54:51 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:39:23 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:37:45 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:37:45 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:37:45 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:36:19 وقت اشاعت: 06/02/2014 - 13:36:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ، تحریک طالبان سنجیدہ ہے تو سیز فائر کا اعلان کرے‘ رحمان ملک

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6فروری 2014ء)سابق وفاقی وزیر داخلہ وپیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ہے، تحریک طالبان پاکستان سنجیدہ ہے تو سیز فائر کا اعلان کرے، حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دے،پیپلزپارٹی دور میں حالات بہتر اور قتل و غارت ختم ہوجاتی تو براہمداغ بگٹی کو پاکستان آنے پر گورنر بلوچستان بھی بنایا جاسکتا تھا، امریکی شہری جان سلوکی کے اغوا ء میں براہمداغ بگٹی کے لوگ ملوث تھے، ان کا فون ٹریس کیا تو پتہ چلا کہ کال افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے آئی ہے اور اس بات سے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو بھی آگاہ کیا۔

ایک انٹر ویو میں رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ قابل تعریف ہے ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں، دیکھنا ہوگا کہ دوسرا فریق بات چیت کیلئے کس حد تک تیار اور نیک نیت ہے، نواز شریف اور حکومتی ٹیم خلوص نیت کے ساتھ آگے جارہے ہیں، طالبان کو ظالمان اسی لئے کہتا ہوں کہ وہ بدنیت ہیں اور رہیں گے وہ مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں بھی دہشتگردی کا سامنا رہا، ہماری حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کیا، امن مذاکرات اب مذاق میں تبدیل ہوچکے ہیں، میاں صاحب نے کہہ دیا کہ گیند اب طالبان کے کورٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے پاکستان کے ساتھ کھیل کھیلا ہے، حکومتی کمیٹی کے جواب میں ان لوگوں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم بنائی جو (ن )لیگ کے سیاسی مخالفین ہیں، طالبان کے رہنما سامنے نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تحریک طالبان کالعدم تنظیم ہے، اس کے رہنما پاکستان میں بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں، انسداد دہشتگردی قانون کے تحت ملزمان کو گرفتار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیخلاف نہیں، کیا طالبان کیلئے نیا این آر او لایا جائے گا؟۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں طالبان سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جس کے گواہ سینیٹ کے کچھ ممبران بھی ہیں، نام وقت آنے پر بتا ؤں گا۔

طالبان سے کہا تھا کہ پاکستان کے پرچم اور آئین کو تسلیم کرلیں تاہم ان کا اصرار شریعت کے نفاذ پر تھا۔انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف افغان جنگ میں مذہبی لوگوں کو استعمال کیا گیا، جہاد کے نام پر پاکستان کو جنگ میں جھونکا گیا، بھارتی ایجنسی ’را‘ اور افغان ایجنسی ’خاد ‘پاکستان میں بم دھماکے کرتے تھے، افغانستان ہمارے ساتھ مخلص نہیں، ملا فضل اللہ کا وہاں ہونا ہمارے لئے باعث تشویش ہے، افغانستان کا ایک وزیر بیت اللہ محسود کو رقم سے بھرے تھیلے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/02/2014 - 13:39:23 :وقت اشاعت