مستقبل میں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کا امیدوار نہیں ہوں، زمبابوے سے شکست کو بھلا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:55:00 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:55:00 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:54:24 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 19:33:07 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 15:43:30 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 15:41:40 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 15:31:47 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 13:30:24 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 13:30:24 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 13:29:55 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 13:29:55
- مزید خبریں

لاہور

مستقبل میں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کا امیدوار نہیں ہوں، زمبابوے سے شکست کو بھلا نہیں سکتا ‘ ڈیوواٹمور،یکم مارچ سے دبئی کی سپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ منسلک ہو جاؤں گا ، پاکستانی ٹیم کوبیٹنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے ، کوچ قومی کرکٹ ٹیم

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31 جنوری ۔2014ء)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیو واٹمور نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کا امیدوار نہیں ہوں، یکم مارچ سے دبئی کی سپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ منسلک ہو جاؤں گا ، پاکستانی ٹیم کوبیٹنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے ، عمراکمل میں بہترین صلاحیتیں موجود ہیں او روہ پاکستان کامستقبل ہیں ۔ قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیو واٹمور نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ میرے لئے ایک چیلنج تھا لیکن یہ تجربہ بہت اچھا رہا ہے ۔

بہت سی خوشگوار یادیں لیکرجار رہا ہوں ۔سب سے بڑا دکھ پاکستان کا زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنا ہے ۔ڈیو واٹمور نے مزید کہا کہ میرا یہ ٹارگٹ تھا کہ جو بھی سیریز کھیلیں وہ جیت کیلئے کھیلیں اور یہی تمام کھلاڑیوں کابھی مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں کرکٹ کا رجحان بہت زیادہ ہے یہاں میڈیا کا بھی دباؤ ہوتا ہے جس سے کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قیام کے دوران مجھے کبھی بھی سکیورٹی مسائل درپیش نہیں رہے بلکہ میں یہاں رہ کر لطف اندوز ہواہوں ۔ انہوں نے پسندیدہ کھلاڑی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن میں کبھی کوئی کردار نہیں رہا بلکہ میں صرف رائے دیتا ہوں اور فیصلہ سلیکشن کمیٹی نے کرنا ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمراکمل صلاحیتوں سے بھرپور کھلاڑی ہے اور وہ پاکستان کا مستقبل ہیں۔

انہوں نے بگ تھری کے حوالے سے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے میں اسکا تفصیل سے جائزہ لوں گا لیکن امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرکٹ کے مفاد میں فیصلہ کرے گا ۔ ڈیو واٹمور نے کہا کہ کھلاڑی میری بات کو آسانی سے سمجھتے تھے لیکن اگر چند کھلاڑیوں کو سمجھ نہ بھی آتی تو وہ میرے احساسات سمجھ جاتے تھے کہ میں ان سے کیا کہنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ 28فروری تک پاکستانی کرکٹ بورڈ کے لئے خدمات سر انجام دوں گا اور یکم مارچ سے دبئی کی ایک سپورٹس مینجمنٹ کمپنی سے منسلک ہو جاؤں گا

31/01/2014 - 20:55:00 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان