امریکہ و بھارت طالبان سے مذاکرات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے ،مذاکرات کو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:50:37 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:49:45 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:49:45 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:49:45 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:49:11 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:49:11 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:48:15 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:48:15 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:20:57 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:10:07 وقت اشاعت: 31/01/2014 - 20:07:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

امریکہ و بھارت طالبان سے مذاکرات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے ،مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرینگے‘ سید منور حسن ، بندوق کی نالی اور خود کش حملوں سے شریعت نافذ کرنے کے خواہاں لوگوں کی نفی ہونی چاہیے ، شریعت قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کر کے ہی نافذ کی جاسکتی ہے ، دینی جماعتوں کو متحد ہو کر مذاکرات کی مانیٹرنگ کیلئے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے ‘ امیر جماعت اسلامی کی میڈیا سے گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31 جنوری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ امریکہ و بھارت طالبان سے مذاکرات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کریں گے، دینی جماعتوں کو متحد ہو کر مذاکرات کی مانیٹرنگ کے لیے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے ، بندوق کی نالی اور خود کش حملوں سے شریعت نافذ کرنے کے خواہاں لوگوں کی نفی ہونی چاہیے ، شریعت قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کر کے ہی نافذ کی جاسکتی ہے ، شریعت پر کسی کو اختلاف نہیں اس کے نفاذ کے طریقہ کار میں اختلاف ہوسکتاہے جس کا باہمی افہام و تفہیم سے حل نکالا جاسکتاہے ، وفاق المدارس کی نگرانی میں دینی جماعتیں مذاکرات کی کامیابی کے لیے کانفرنسیں ، سیمینارز اور جلسے منعقد کریں تاکہ کل کلاں حکومت کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ طالبان صرف بندوق کی زبان سمجھتے ہیں ، خطے میں امریکی آمد سے سیاسی دہشتگردی بڑھی جس نے مسلح دہشتگردی کو جنم دیا ،الطاف حسین کو قومی و بین الاقوامی طاقتوں کی بجائے خود ایم کیو ایم سے جان کا خطرہ ہے ، بوری بند لاشوں اور ٹارگٹ کلنگ کا کلچر ایجاد کرنے والوں کو اسی کلچر سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ، بھارت کے ایما پر پوری مغربی دنیا نے بنگلہ دیش کے متنازع انتخابات اور حسینہ واجد کی خود ساختہ کامیابی پر آنکھیں بند کر لی ہیں ، بنگلہ دیش میں اسلامی قیادت کے خلاف جو کچھ ہورہاہے بھارت اس کی پشت پناہی اور سرپرستی کر رہاہے ،پاکستان کو حسینہ واجد کے مظالم کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ انصاف سے رجوع کرنا چاہیے اور1974 ء میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والے سہ ملکی معاہدے پر عملدرآمد پر زور دینا چاہیے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سیدمنورحسن نے کہاکہ جس طرح وزیراعظم کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی طالبان سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی ہے ، انہی بنیادوں پر طالبان کو دینی سپورٹ دینے کے لیے اور شرعی نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے دینی جماعتوں کو ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے ،خصوصاً وفاق المدارس کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جو حکومت اور طالبان میں ہونے والے مذاکرات کی نہ صرف مانیٹرنگ کرے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

31/01/2014 - 20:49:11 :وقت اشاعت