کالاباغ ڈیم مخالفین کی اکثریت ایک مرلہ زرعی زمین بھی نہیں رکھتی یا بجلی بل دینا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 30/01/2014 - 19:38:12 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 19:37:19 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 19:17:02 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 19:10:11 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 16:59:21 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 14:35:06 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 14:35:06 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 14:33:43 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 13:02:56 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 12:48:45 وقت اشاعت: 30/01/2014 - 12:48:45
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

کالاباغ ڈیم مخالفین کی اکثریت ایک مرلہ زرعی زمین بھی نہیں رکھتی یا بجلی بل دینا اپنی توہین اور بجلی چوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں‘ ابراہیم مغل

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 30جنوری 2014ء) پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم مخالفین کی اکثریت ایک مرلہ زرعی زمین بھی نہیں رکھتی یا بجلی بل دینا اپنی توہین اور بجلی چوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئلے سے پیدا کردہ بجلی 13روپے یونٹ پڑے گی اور کوئلہ 50سال میں ختم ہوجائیگا جبکہ پانی سے بجلی 6روپے یونٹ پڑے گی اور پانی قیامت تک ختم نہیں ہوگا ۔

حکومت کوئلے پر کام جاری رکھے مگر پانی کے ڈیم جن میں کالاباغ، داسو، بونجی، اکھوڑی و دیگر شامل ہیں پر کام شروع کیوں نہیں کر رہی ۔حکومت کو آئے 9ماہ ہو گئے ہیں اور ماضی میں 9ماہ میں بہت بڑا فلائی اوور بنانے والے حکمران اپنے موجودہ 9ماہ میں پن بجلی کیلئے کسی ڈیم کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھ سکے جس سے حکومتوں کی غیر سنجیدگی اور قلیل و طویل مدتی پلاننگ کا پتہ چلتا ہے۔

ڈاکٹر مغل نے مزید کہا کہ پن بجلی کے کچھ ڈیم فاسٹ ٹریک پر عمل کرتے ہوئے 4سال میں مکمل ہو سکتے ہیں اور بیرون ممالک میں پاکستانی ان کیلئے فنڈ بھی دے سکتے ہیں اور ان سے 20سے25ہزار میگا واٹ بجلی سہولت کے ساتھ سسٹم میں آسکتی ہے بشرطیکہ حکمران ملک کے ساتھ سنجیدہ ہوں اور عملی اقدامات شروع کریں ان میگا پراجیکٹس سے روزگار بڑھے گا، مہنگائی کم ہوگی اور غربت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

30/01/2014 - 14:35:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان