جوڈیشل افسران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ چیف جسٹس لاہور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 25/01/2014 - 22:24:14 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 22:21:25 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 22:21:25 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 21:04:08 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 21:04:08 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 21:03:17 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 21:03:17 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 21:03:17 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 20:54:50 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 20:54:50 وقت اشاعت: 25/01/2014 - 19:28:24
- مزید خبریں

لاہور

جوڈیشل افسران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ،پراسیکیوشن اورتفتیشی ادار وں کی طرف سے ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کی صورت میں آگاہ کیا جائے‘ جسٹس عمر عطا بندیال

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25 جنوری ۔2014ء)چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جوڈیشل افسران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ پرسکون ماحول میں اپنے فرائض سر انجام دے سکیں،اس بات یقینی بنایا جائے کہ پراسیکیوشن اورتفتیشی ادار ے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں پوری کر رہے ہیں اور انکی جانب سے کسی کوتاہی کی صورت میں عدالت عالیہ کو فوری طور پر مطلع کیا جائے کیونکہ یہ ادارے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے میں اہم کردار رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے سینئر جج صاحبان مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الا حسن کے ہمراہ جی او آر -IV میں جوڈیشل افسران کو فلیٹس کی چابیاں دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں ملازمین کے لئے سرکاری رہائش گاہیں بہت قلیل ہیں اس لئے لاہور میں کام کرنے والے جوڈیشل افسران کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

ان فلیٹس کی فراہمی سے عدالتی افسران کو عارضی طور پر رہائشی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور، سید حامد حسین شاہ نے پنجاب حکومت کی جانب سے مذکورہ سات فلیٹس مختص کروانے پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر فلیٹ کو تین مرد یا دو خواتین ججوں کو اشتراک کی بنیاد پر الاٹ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر قائمقام رجسٹرار حبیب اللہ عامر ، سینئر سول جج لاہور ، شیر عباس اور عدالتی افسران بھی موجود تھے ۔

25/01/2014 - 22:24:14 :وقت اشاعت