نام نہاد جمہوری حکومت کے دور میں آدھے سے زیادہ ملک میں ”مارشل لاء “نافذ ہے ‘ سید ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:09:26 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:03:29 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:03:29 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:03:29 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:02:43 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:02:43 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:01:05 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:01:05 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 20:01:05 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 19:58:55 وقت اشاعت: 24/01/2014 - 19:58:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

نام نہاد جمہوری حکومت کے دور میں آدھے سے زیادہ ملک میں ”مارشل لاء “نافذ ہے ‘ سید منور حسن،جیٹ طیاروں کی بمباری سے نہ امن قائم ہوسکتاہے اور نہ خود کش حملوں سے شریعت نافذ ہوسکتی ہے ،تمام مکاتب فکر کے علما مل بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے طالبان سے مذاکرات کی میز بچھائیں ، اجتماع سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24 جنوری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سیدمنور حسن نے کہاہے کہ جیٹ طیاروں کی بمباری سے نہ امن قائم ہوسکتاہے اور نہ خود کش حملوں سے شریعت نافذ ہوسکتی ہے ، حکومت نے تو امریکی دباؤ میں آ کر طالبان سے مذاکرات نہیں کیے ، مگر ملک کو بچانے اور اسلام کی غلط تصویر کشی کو روکنے کے لیے دینی قوتوں خاص طورپر دیو بندی مکتبِ فکر کے علما کو آگے بڑھ کر مذاکرات کی میز بچھانی چاہیے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 1973 ء کا آئین بنانے میں دینی جماعتوں کے علمائے کرام نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، اس کا تحفظ کرنا بھی دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے ۔ جس طرح قوم کے 31علما نے مل بیٹھ کر متفقہ طور پر22 نکات طے کیے تھے اب پھر وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علما مل بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات کی میز بچھائیں ۔

جو چارج شیٹ دینی جماعتوں کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے ،اس کا جواب دینا ہوگا۔نام نہاد جمہوری حکومت کے دور میں آدھے سے زیادہ ملک میں ”مارشل لاء “نافذ ہے ۔ طالبان کے بارے میں یہ پراپیگنڈا کہ وہ کسی آئین و قانون کو مانتے ہی نہیں ، خاص مقاصد کے لیے کیا جارہاہے ۔شمالی وزیرستان کو تہس نہس کرنے کی امریکہ کی دیرینہ خواہش کو موجودہ حکومت پورا کر رہی ہے ۔

وزیرستان میں بمباری سے سینکڑوں لوگ لقمہ ٴ اجل بن رہے ہیں ۔ بمباری کسی ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بناتی ، اس میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔ سوات اور بونیر کے بعد وزیرستان سے بھی ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مسالک کی بنیاد پر تقسیم ، اسلام دشمن قوتوں کا امت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا صدیوں سے وطیرہ رہاہے ۔ ضرورت اس امر کی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/01/2014 - 20:02:43 :وقت اشاعت