ملک کے سارے اثاثے کلیرنس اور کلوزنگ سیل پر ہیں،پاکستان کسی حکمران یا سیاسی لیڈر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2014 - 22:46:47 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 22:46:47 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:41:54 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:41:54 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:41:54 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:38:45 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:38:45 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:37:10 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:36:07 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:36:07 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 21:36:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

ملک کے سارے اثاثے کلیرنس اور کلوزنگ سیل پر ہیں،پاکستان کسی حکمران یا سیاسی لیڈر کے خاندان کی جائیداد نہیں ہے ‘ طاہر القادری ،ڈاکہ زنی کا عمل نہ رکا تو عنقریب ایک کروڑ پاکستانیوں کا انقلاب آ رہا ہے ،خریدنے اور بیچنے والے دونوں خبردار رہیں ‘عوامی تاجر اتحاد کے وفد سے گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ ملک کے سارے اثاثے کلیرنس اور کلوزنگ سیل پر ہیں ، پاکستان کسی حکمران یا سیاسی لیڈر کے خاندان کی جائیداد نہیں ہے ،یہ ملک کسی کی وراثت نہیں کہ اس کے ادارے جب چاہے جس بھاؤ بیچ دئیے جائیں، ادارے پاکستان کے 18کروڑ عوام اور ریاست پاکستان کی ملکیت ہیں،ڈاکہ زنی کا عمل نہ رکا تو عنقریب ایک کروڑ پاکستانیوں کا انقلاب آ رہا ہے ،عوام پر امن طریقے سے طاقت لے کر جعلی نج کاری کو مسترد کر دیں گے،فراڈ،بد یانتی اور کرپشن پر مبنی نج کاری کو عوامی انقلاب کے بعد منسوخ کر کے ریاست پاکستان کے اثاثے واپس لوٹا دئیے جائیں گے ، ضرورت ہوئی تو بین الاقوامی شفافیت کے پیمانے کے مطابق انقلاب کے بعد نج کاری کروائیں گے ،خریدنے اور بیچنے والے دونوں خبردار رہیں ،انقلاب آ نے والا ہے،ایسی لوٹ مار کی اندھیر نگری نہیں ہونے دی جائیگی،خریدنے والے سوچ کر خریدیں اور بیچنے والے سوچ کر بیچیں، قومی اثاثے حکمرانوں کی ذاتی جاگیریں نہیں کہ لوٹ مار کر کے بھاگ جائینگے، موجودہ حکمران1990 سے 1993 کے درمیان جب برسر اقتدار آئے تو انکی نگاہ فوری طور پر قومی اثاثوں کو بیچنے اور خریدنے پر تھی،یہ لوگ قومی اثاثے حکمران اور سیاستدان بن کر بیچتے ہیں جبکہ کاروباری اور تاجر بن کر خریدتے ہیں،ان ہی حکمرانوں نے 1991 میں 40 سٹیٹ انٹر پرائزز کو بیچا جس میں مسلم کمرشل بنک،سیمنٹ فیکٹری،آئل ریفائنری،سٹیل انڈسٹری اور کیمیکل پلانٹس شامل تھے ،ان میں10یونٹس ایسے تھے جو اس وقت بھی نفع دے رہے تھے ۔

وہ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں بذریعہ ویڈیو کانفرنس پاکستان عوامی تاجر اتحاد کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر حاجی اسحق،غلام فرید،سلطان چودھری،حفیظ الرحمان،راجہ ندیم،محبوب احمد اور دیگر تاجر ارہنماء بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے بھی قومی اثاثے اپنی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2014 - 21:38:45 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان