لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:04:07 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:04:07 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:56:09 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:53:57 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:53:57 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:52:47 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:52:47 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:52:47 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:48:19 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:48:19 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 20:48:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا دی،حکومتی نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا جائے ،عدالت تعین کریگی کیا انتظامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کر سکتی ہے؟چیف جسٹس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 جنوری ۔2014ء)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے آئین کے آرٹیکل 19-A کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا دی۔جبکہ معزز عدالت نے مزید کہا ہے کہ درخواست گزار حکومت کی طرف سے جاری کیا جانیوالا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کریں عدالت اس بات کا تعین کریگی کہ کیا انتظامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کر سکتی ہے؟ ۔

بدھ کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اوگر نے اپنے جواب میں لکھا ہے وہ قیمتیں مقرر نہیں کر رہے اب آپ کے پاس اطلاعات آگئی ہیں آپ اِس طریق کار کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں ۔اوگر کے وکیل ہارون ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے میں اور دیگر معاملات دیکھنے میں اوگرا کا کوئی کردار نہ ہے۔

مئی 2011ء میں اقتصادی کونسل کمیٹی نے تیل کی قیمتیں بھی ریگولیٹ کرنے کی اجازت دے دی اور وزارتِ پانی و بجلی نے اِس بابت نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اِس نوٹیفکیشن کے تحت اوگر ا کا کردار بالکل ختم ہو گیا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں نیپرا متعین کرتی ہے اُس کیلئے باقاعدہ عوامی سماعت ہوتی ہے اعتراضات داخل کئے جاتے ہیں مگر پیٹرولیم کی مصنوعات بغیر کسی عوامی سماعت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22/01/2014 - 20:52:47 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان