نواز شریف ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں ‘ مشاہد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:48:43 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:48:43 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:48:43 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:43:29 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:43:29 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 16:43:29 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:50:09 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:50:09 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:28:11 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:28:11 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:28:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

نواز شریف ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں ‘ مشاہد حسین سید

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18جنوری 2014ء)پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل و سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سیدنے کہا ہے کہ نواز شریف ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں ،قوم سے خطاب کر کے ملک کو درپیش مسائل پر اعتماد میں لیں اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں،فوج اور عدلیہ سے ملکر انتہا پسندی و دہشتگردی‘ معیشت ‘ توانائی اور تعلیم کے حوالے سے پانچ سالہ ایجنڈا طے کریں ،طالبان سے مذاکرات میں امریکہ ، فوج یا سیاسی جماعتیں ہرگز رکاوٹ نہیں لیکن حکومت اس معاملے میں تذبذب کا شکار لگتی ہے،اس وقت حکومت کے سامنے کوئی اپوزیشن نہیں بلکہ پوری دنیا افغانستان کی وجہ سے تعاون مانگ رہی ہے جسکے تحت ساری چوائسز حکومت کے پاس ہیں ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹر ویو میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے بارے میں حکومت واضح نہیں کیونکہ اس کے ایک یا دو شخص انچارج نہیں ۔خارجہ پالیسی کی سمت بن رہی ہے بلکہ بن چکی ہے کہ ہمارے جو قومی سلامتی کے مقاصد ہیں انکا تعلق اورمحور یہ خطہ ہے جہاں ہم موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتاہے کہ پاکستان میں پانچ وزیر خارجہ ہیں ایک تو باضابطہ وزیر خارجہ وزیر اعظم محمد نواز شریف ہیں جبکہ دو غیر رسمی وزیر خارجہ ہیں جو وزیر خارجہ کا کردار ادا کرتے ہیں لیکن انکے پاس اسکا باضابطہ کوئی ٹائٹل نہیں جن میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز جبکہ دوسر ے خصوصی معاون طارق فاطمی ہیں جبکہ دو حقیقی وزیر خارجہ بھی ہیں جن میں اسحاق ڈار ہیں جنہوں نے امریکہ میں سارے مذاکرات کئے جبکہ ایک وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہیں جنہوں نے بھارتی پنجاب میں دو ڈیکلریشن پر دستخط کئے ۔

انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ اب پاکستان کی فوج پاکستان کی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہی البتہ انکا تعاون اور مشاورت ضرور ہے ،خارجہ پالیسی اب سویلین ہی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان بھی پاکستان کا ہی حصہ ہیں ۔ 9 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں کہا گیا کہ حکومت مذاکرات کرے لیکن اسے سو دن ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک مذاکرات کئے اور نہ ہی حکمت عملی سامنے آئی ہے اور نہ قومی سلامتی کی پالیسی بنائی گئی ہے ۔

حکومت انتخاب جیت کر آئی ،اے پی سی بلائی گئی جس میں اسے مینڈیٹ مل گیا اس میں امریکہ ،فوج اور نہ ہی کوئی سیاسی قیادت رکاوٹ ہے بلکہ حکومت خود تذبذب کا شکار ہے ۔ مذاکرات کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی واضح دلائل کے ساتھ موقف پیش نہیں کیا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18/01/2014 - 16:43:29 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان