طالبان سے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے، سید منور حسن،نواز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:16:52 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:16:52 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:37:40 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:37:40 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:30:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:30:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:30:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:27:13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

طالبان سے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے، سید منور حسن،نواز شریف دوبارہ اے پی سی بلائیں اور مذاکرات کیلئے حمزہ شہباز کو مینڈیٹ لیکر دیں،پرویز مشرف کے معاملے میں ملک کو لاقانونیت کی دلدل میں دھکیلا جارہا ،سیاسی جماعتیں اس کیخلاف عوام کو متحرک اور ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں،امیر جماعت اسلامی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16 جنوری ۔2014ء)امیرجماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے ، مذاکرات میں میاں نواز شریف سنجیدہ ہوتے تو لوگوں کو نامزد کرنے کی بجائے ان سے ملاقات اور اس اہم ترین قومی مسئلے پر مشاورت کرکے کوئی لائحہ عمل بناتے،حمزہ شہباز کے کل کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ حمزہ شہباز قومی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور زیادہ فعال نظرآتے ہیں، نواز شریف کو چاہئے کہ حمزہ شہباز کو طالبان سے مذاکرات کیلئے مقررکردیں توشاید مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔

نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف دوبارہ اے پی سی بلائیں اور مذاکرات کیلئے حمزہ شہباز کو مینڈیٹ لیکر دیں۔حکمرانوں نے مئی کے انتخابات میں ملنے والے عوامی اور اے پی سی سے حاصل ہونے والے قومی مینڈیٹ کو امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔حکومت کے غیرسنجیدہ رویے کے خلاف آخر مولانا سمیع الحق بھی پھٹ پڑے ہیں۔اگر حکومت غیر سنجیدگی چھوڑ دے اور امریکی دباؤ کی پرواہ نہ کرے تو مذاکرات کامیاب اور امن قائم ہو سکتاہے ۔

اے پی سی کی متفقہ قرار داد کو پس پشت ڈالنے اور مذاکرات میں تاخیر اور لیت و لعل سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں ۔ پرویز مشرف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سید منور حسن نے کہا کہ پرویز مشرف کے معاملے میں ملک کو لاقانونیت کی جس دلدل میں دھکیلا جارہا ہے سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اس کے خلاف عوام کو متحرک اور ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں۔

آئین توڑنے اور قانون کا مذاق اڑانے والے جرنیلوں کو ہمیشہ توپوں کی سلامی دیکر رخصت کیا گیا جس سے ملک میں آئین کی بالادستی کا تصور فنا کے گھاٹ اتر گیا۔عدل و انصاف کے تصور کو بحال کرنے کیلئے آئین توڑنے والوں کی قبروں کا بھی ٹرائل کرنا پڑے تو مضائقہ نہیں ۔ جنہوں نے ایک بار آئین توڑا انہیں ایک بار اور جنہوں نے دو بار آئین

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/01/2014 - 20:37:40 :وقت اشاعت