جن منصوبوں پر ہمارے نام کی تختیاں لگی ہیں حکمران انہیں ہٹا کر اپنے نام کی لگا لیں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:49:53 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:28:12 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:19:27 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:14:31 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:13:37 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:13:37 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:03:25 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 15:03:25 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 14:15:42 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 14:04:45 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 14:04:45
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جن منصوبوں پر ہمارے نام کی تختیاں لگی ہیں حکمران انہیں ہٹا کر اپنے نام کی لگا لیں لیکن انہیں بند کرکے قوم کا پیسہ ضائع نہ کریں ‘ پرویز الٰہی

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16جنوری 2014ء)پاکستان مسلم لیگ(ق) کے مرکزی رہنما و سابق نائب وزیر اعظم چوہدری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ جن منصوبوں پر ہمارے نام کی تختیاں لگی ہوئی ہے حکمران انہیں ہٹا کر اپنے نام کی لگا لیں لیکن انہیں بند کرکے قوم کا پیسہ ضائع نہ کریں ، شیخوپورہ میں لوگوں سے روزگار چھین کر گارمنٹس سٹی کیلئے اراضی حاصل کرنے کی بجائے ہمارے دور میں فیصل آباد میں 4500ایکڑ پر بنائی گئی انڈسٹریل اسٹیٹ کو آباد کیا جائے ،پنجاب حکومت نے اپنے قیام کے بعد جتنے ایم او یوز سائن کئے ہیں اس سے تو سات اور آٹھ کلب کی الماریاں بھی بھر گئی ہونگی اوراس لحاظ سے انکا نام گنز بک آف ورلڈریکارڈ میں آناچاہیے ، موجودہ حکمران کسی کو اختیار نہیں دینا چاہتے اسی لئے کہہ دیا تھا کہ یہ بلدیاتی انتخابات نہیں کرائینگے ، چیلنج کرتا ہوں کہ میٹرو بس کو چلانے کیلئے ماہانہ ایک ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز اپنی رہائشگاہ پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرچوہدری ظہیر الدین اور راجہ محمد بشارت بھی موجود تھے۔ چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ شیخوپورہ میں اتنی وسیع اراضی موجود نہیں بلکہ لوگوں نے چار ‘ پانچ ایکڑ پر ڈیری فارم اور پولٹری فارم بنا رکھے ہیں اور روزگار کما رہے ہیں ،ابھی گارمنٹس سٹی کے لئے اراضی کا حصول ممکن نہیں ہو سکا لیکن پلاٹ الاٹ کئے جارہے ہیں ۔

بتایا جائے ایسا کر کے کس کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے ؟۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں فیصل آباد میں موٹر وے کے بالکل قریب 4500ایکڑ پر انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی گئی وہاں اربوں روپے سے ترقیاتی کام ہوئے جبکہ پانچ سے انڈسٹریز بھی لگی ہوئی ہے پھر شیخوپورہ میں کیوں لوگوں سے روزگار چھینا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بتائیں انکے پاس کہاں سے سرمایہ کاری آ رہی ہے ۔

ہمارے دور کی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں کئی پلاٹ خالی پڑے ہیں لیکن وہاں پر سڑک نہیں بنائی جارہی ،ہم نے اٹک میں منصوبہ شروع کیا لیکن حکمرانوں نے اسے بھی بند کر ادیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال میں ہر روز تین ایم او یوز پردستخط ہو رہے ہیں اور اب تو سات اور آٹھ کلب کی الماریاں بھی بھر گئی ہوں ۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آٹھ کلب یونیورسٹی بن گئی ہے ؟۔

حکمران کس سے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/01/2014 - 15:13:37 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان