موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ، بھٹو کا کیس دوبارہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:19:01 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:19:01 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:17:02 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:17:02 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:17:02 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:15:20 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:15:19 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:06:08 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:06:08 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:06:08 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:03:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ، بھٹو کا کیس دوبارہ کھولنے کا مقصد کسی سے انتقام نہیں تاریخی ریلیف لینا ہے، آصف علی زرداری

تمام سیاسی جماعتوں میں گندے انڈے ہیں، پابندی لگانے یا جمہوریت کوختم کرنے کی بجائے گندے انڈوں کو نکالا جائے

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء ) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ نازک صورت حال میں حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے ۔ بھٹو کا کیس دوبارہ کھولنے کا مقصد کسی سے انتقام لینا نہیں بلکہ تاریخی ریلیف لینا ہے ۔ ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں گندے انڈے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے یا جمہوریت کوختم کرنے کی بجائے ان گندے انڈوں کو نکالا جائے ۔

بلاول بھٹو زرداری کی تربیت کر رہے ہیں ۔ ان کی جوانی اور سوچ کوپختہ کرنا ہے ۔ اس کے بعد انہیں میدان میں لائیں گے ۔ سکیورٹی خطرات اور دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سیاست میں بتدریج لائیں گے ۔ وہ جمعرات کو بلاول ہاوٴس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ان کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری ، پیپلز پارٹی کی سنئر نائب صدر شیری رحمان ، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، سابق وفاقی وزیر احمد مختار اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں سیاسی جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ ڈائیلاگ ، ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ ہی تمام سوالوں کا جواب ہے ۔ جمہوریتوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے بارے میں ہمیں تشویش ہے ۔

یہاں بھی ہم دوستی اور ڈائیلاگ کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ جب میں صدر تھا تو میں نے ایران کے رہنماوٴں اور دیگر ملکوں کے رہنماوٴں کے ساتھ خطے کے مسائل پر بات کی تھی ۔ تب مجھے نظر آ رہا تھا کہ طوفان آنے والا ہے ۔ ہمیں دوستی اور بھائی چارے سے اس طوفان کا مقابلہ کرنا ہے ۔ مسلمان ملکوں میں جو رنجشیں ہیں ، وہ دور ہو جائیں ۔ شام کے مسئلے پر ہم نے ووٹ نہیں دیا تھا ۔

اقوام متحدہ میں بھی ہم نے یہی بات کہی تھی کہ ڈائیلاگ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور سرحدیں انسانوں کے لیے ہوتی ہیں ۔ اگر انسان نہ رہیں یا ان کے لیے بھوک اور مسائل ہوں اور انسان بھٹکتے رہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن ، سعودی عرب اور دیگر ملکوں میں 30 لاکھ پانی کام کرتے ہیں ۔ ہم اس خطے کے معاملات سے دور نہیں رہ سکتے ۔

ہمیں ان میں ملوث ہونا پڑے گا ۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان ممالک میں پیپلز پارٹی کے وفود بھیجے جائیں اور ہم کوشش کریں گے کہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس دوبارہ چلایا جائے اور اس حوالے سے صدر اور وزیر اعظم کو خط لکھا جائے گا ۔

ہم کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ شہید بھٹو اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ظلم ہو چکا ہے ۔ اس ظلم پر معافی مانگی جائے ۔ اس سوال پر کہ ایم کیو ایم کے جرائم پیشہ عناصر گرفتا رہوئے ہیں اور آپ پھر بھی ان کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے بغیر نہیں چل سکتی ؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی سوچ رکھنے والے جرائم نہیں کرتے ۔

ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی گندے انڈے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں اصلاحات ہونی چاہئیں اور یہ گندے انڈے نکال دیئے جائیں ۔ ہماری پارٹی میں بھی شہید بھٹو سے لے کر اب تک گندے انڈے چلے آ رہے ہیں ۔ لیکن کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے یا جمہوریت کو ختم کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں سے گندے انڈے نکالے جائیں ۔ ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے ۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کانفرنس بلانے کا بندوبست کیا تھا لیکن ہماری حکومت چلی گئی تھی ۔ بعد ازاں یہ کانفرنس کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی لیکن اس کی صدارت میاں محمد نواز شریف نے کی تھی ۔ اس وقت بہت نازک موقع ہے ۔ حکومت اسلامی سربراہ کانفرنس ضرور بلائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے ۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ سب باتیں نہیں بتائی جا سکتیں ۔ میں صدر مملکت رہا ہوں اور میں نے حلف لیا تھا ۔ یہ حلف آج بھی ہے اور قبر تک رہے گا ۔ میرے پاس جو معلومات ہیں ، وہ میرے پاس ہی رہیں گی ۔ میرے ساتھ وہ باتیں شیئر کی جا سکتی ہیں ۔ ہم ذمہ دار لوگ ہیں ۔ افغانستان کے معاملے پر ڈائیلاگ ہوا ۔ سعودی عرب میں ملاقاتیں ہوتی تھیں ۔

ہم تاریخ کے بہت سے واقعات کے شاہد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ صورت حال میں اپنا کردار ادا کروں گا ۔ پہلے ہم اسلامی ممالک میں وفود بھیجیں گے اور ایک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جو کردار میں ادا کرسکتا ہوں ، وہ بھی کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف مسلمانوں کی بات نہیں کرتے ۔ انسان ذات کی بات کرتے ہیں اور ہر انسانی مسئلے پر بات کرتے ہیں ۔

کسی بھی انسان کی جان نہیں جانی چاہئے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ پہلے ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ لگتا تھا اور اب ایک زرداری ، سب سے یاری کا نعرہ لگتا ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نوڈیرو میں کہا تھا کہ ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ مغرور نعرہ ہے ۔ ایسے نعرے نہیں لگنے چاہئیں ۔ کچھ دن پہلے میں کراچی میں پٹھانوں کے علاقے میں گیا تھا ۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/04/2015 - 21:15:20 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان