70فیصد کاشتکارمحنت کا معاوضہ ہڑپ کرنیوالے سودخوروں کے رحم وکرم پر ہیں، ڈاکٹر مرتضی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:45:50 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:45:49 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:44:14 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:44:14 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:44:13 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:38:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:38:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:38:09 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:36:19 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:36:19 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 17:36:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

70فیصد کاشتکارمحنت کا معاوضہ ہڑپ کرنیوالے سودخوروں کے رحم وکرم پر ہیں، ڈاکٹر مرتضی مغل

بینک زراعت کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، ساڑھے 6فیصد قرضہ دیا جاتا ہے،ساہوکاروں نے زراعت اور لائیو سٹاک کے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے، صدر پاکستان اکانومی واچ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ بینکوں کی عدم توجہ کے سبب ملک کے ستر فیصد کاشتکار سود خوروں کے رحم و کرم پر ہیں جو انکی محنت کا معاوضہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔سٹیٹ بینک کی کوششوں کئے باوجود زرعی قرضے بینکوں کی جانب سے جاری ہونے والے تمام قرضوں کا صرف ساڑھے چھ فیصد ہیں ۔

کاشتکاروں اور لائیو سٹاک سے وابستہ افراد جو ملکی آبادی کا چوالیس فیصد اور جی ڈی پی کا21 فیصد حصہ پیدا کرتے ہیں کی جانب سے ڈیفالٹ کی شرح اٹھارہ فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد ہو گئی ہے مگر اسکے باوجود انھیں توجہ نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کی بھاری اکثریت اپنی فصل ساہوکاروں کے پاس گروی رکھوانے پر مجبور ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ زرعی ترقی کا دارومدار سستے قرضوں

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/04/2015 - 17:38:10 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان