سندھ روینیو بورڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس سال 49ارب روپے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/04/2015 - 23:54:48 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:58:52 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:58:52 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:58:52 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:56:53 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:56:53 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:53:58 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:53:58 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:53:58 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:52:24 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 22:52:24
- مزید خبریں

کراچی

سندھ روینیو بورڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس سال 49ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کرے گی ،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 اپریل۔2015ء) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ روینیو بورڈ(ایس آر بی) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ روینیو بورڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس سال 49ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کرے گی ،بلکہ وہ سال 2017-18میں 100ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کے اپنا سالانہ ہدف کوبھی پورا کرے گی۔

انہوں نے متعلقہ انتظامیہ سے کہا کہ وہ اپنی استعداد کار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ٹیکس دھندگان کی تعداد میں بھی اضافہ لائین اور ٹیکس کو فروغ دینے کیلئے دوستانہ ماحول پیدا کریں اور صوبہ سندھ کے لوگوں کی بہتری کیلئے سالانہ مطلوبہ ہدف میں اضافہ لاتے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ صوبوں کو اختیارات کی تفویض پر اسی جذبہ کے ساتھ عمل کرے کیونکہ پاکستان کے لوگ صوبوں میں رہتے ہیں ،ناکہ مرکز میں جہاں پر ہم انہیں صحت،تعلیم، مواصلات، صفائی، پانی کی فراہمی اور سماجی شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے یہ باتیں بدھ کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں تیسرے ٹیکسیشن فورم جن کا اہتمام سندھ روینیو بورڈ نے کیا تھا سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس فورم میں ٹیکسیشن اور ٹیکس دھندگان کو سہولیات کے حوالے سے تمام پہلوں پر کھلی بحث کی گئی۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈاور آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولی کے اختیارات صوبوں کو دینے میں اس بہانے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا کہ صوبوں کے پاس ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، مگر صوبہ سندھ نے آئین کے مطابق اپنے آئینی حقوق کیلئے لڑتے ہوئے یہ حق حاصل کیا اور صوبہ سندھ وہ پہلا صوبہ بنا جس نے خدمات پر ٹیکس جمع کرنے کیلئے اپنا آزادانہ ادارہ سندھ روینیو بورڈ قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جب ایف بی آر 2009-10میں ٹیکس جمع کی تھی تو وہ 8- ارب روپے سے زائد نہیں کر سکی تھی ،مگر آج ایس آر بی نے اس سال 49ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پورا کر رہی ہے اور اسے بڑھاتے ہوئے سال 2017-18میں100ارب روپے کا ہدف پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ رہی ہے کہ صرف لینڈ روینیو کا ذریعہ سندھ کا اہم اور نمبر ون رہا ہے، مگر آج ہماری گڈگورننس کی وجہ سے سندھ روینیوبورڈ اول نمبر پر ہے اور محکمہ آبکاری و محصولات دوسرے نمبر پر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ کا کریڈٹ پی پی پی حکومت کو جاتا ہے جس کے تحت تمام صوبوں کے مالی وسائل میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ این ایف سی کو صرف آبادی کے بجائے ملٹی پل پہلوں بشمول آبادی، غربت، آبادی کے تناسب اور صوبوں کی ضروریات کے تحت پاس کرانے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل صوبوں کو منقسم پول سے وفاق کے 56- فیصد کے مقابلے میں 44فیصد فراہم کیا جاتا تھا اور صوبہ سندھ کو اس 70تا72فیصد روینیو جمع کرنے کے مقابلے میں 23.5فیصد حصہ ملتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد اب صوبے 56- فیصد اور وفاق 44فیصد حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل میں اضافے کے بعد ہم نے ترقی کیلئے کتنے ہی میگا پروجیکٹس شروع کئے اور ہم عام افراد کو صحت، تعلیم اور صفائی کی بہتر سہولیات فراہم کر رہے ہیں،ہم نے کراچی کی ترقی کی منصوبہ بندی کی ہے جس کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت ہے اور اسے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں ایک حب کی حیثیت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے حوالے سے متعدد میگاپروجیکٹس پائپ لائن میں ہیں اور جلد کراچی کا شمار دنیا کے مشہور اور خوبصورت شہروں میں

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/04/2015 - 22:56:53 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان