اپوزیشن جماعتوں کا سندھ اسمبلی میں ہنگامہ وشورشرابا، ایوان مچھلی منڈی بن گیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:38:01 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:38:01 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:24 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:31:35 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:31:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

اپوزیشن جماعتوں کا سندھ اسمبلی میں ہنگامہ وشورشرابا، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

ایم کیوایم ،مسلم لیگ (ف) اور مسلم لیگ (ن)کے ارکان کا نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف شدید احتجاج ،شیم شیم کے نعرے

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 اپریل۔2015ء) سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان نے نکتہ ہائے اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر سخت احتجاج ، شور شرابہ اور ہنگامہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر ڈائس کے سامنے جاکر احتجاج بھی کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔

وہ شیم شیم کے نعرے لگا تے رہے ۔ اپوزیشن لیڈر شہریار خان مہر اور مسلم لیگ (فنکشنل) کے دیگر ارکان نے اسمبلی کے قواعد کی کتابیں بھی پھاڑ دیں جبکہ اسپیکر آغا سراج درانی نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا ۔ پیر کو اپوزیشن ارکان کے احتجاج تلاوت ، نعت اور فاتحہ خوانی کے بعد دوبارہ شروع ہوا ۔ ایک مرتبہ ایم کیو ایم کے ارکان نے واک آوٴٹ کیا ۔

دوسری مرتبہ مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے احتجاجاً واک آوٴٹ اور پھر تیسری مرتبہ ان تمام ارکان نے واک آوٴٹ کیا اور اجلاس ختم ہونے تک ایوان میں واپس نہیں آئے ۔ احتجاج کے دوران ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے اجلاس 10 منٹ کے لیے ملتوی بھی کیا ۔ اس طرح پیر کا دن اپوزیشن کے احتجاج کا دن تھا ۔ فاتحہ خوانی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے رکن محمد حسین خان نے نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے اور گرفتاریوں کے حوالے سے بات کرنا چاہی لیکن اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور کہا کہ ایوان کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلایا جائے گا ۔

وقفہ سوالات کے بعد اپوزیشن لیڈر شہریار خان مہر بھی نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن اس مرتبہ اجلاس کی صدارت کرنے والی ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے انہیں بھی اجازت نہیں دی اور کہا کہ اسمبلی قواعد میں نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ اس پرمسلم لیگ(فنکشنل) اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بھی ایوان سے واک آوٴٹ کیا ۔ بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے توجہ دلاوٴ نوٹس کا وقفہ شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی استعفیٰ کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر مسلسل احتجاج کرتے رہے ۔

مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بھی ایوان میں واپس آ کر احتجاج جاری رکھا ۔ ڈپٹی اسپیکر بار بار یہ کہتی رہیں کہ وہ قواعد سے ہٹ کر اجلاس نہیں چلائیں گی ۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران توجہ داوٴ نوٹس کا وقفہ بھی ختم ہو گیا ۔ صرف ایک توجہ دلاوٴ نوٹس پر وزیر اطلاعات و بلدیات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/04/2015 - 21:36:07 :وقت اشاعت