معاملات سڑکوں اور کنٹینرز پر نہیں بلکہ ایوانوں میں بیٹھ کر حل کئے جاتے ہیں،وزیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:38:01 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:24 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:36:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:33:00 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:31:35 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:31:35 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:31:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

معاملات سڑکوں اور کنٹینرز پر نہیں بلکہ ایوانوں میں بیٹھ کر حل کئے جاتے ہیں،وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 اپریل۔2015ء) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ معاملات سڑکوں اور کنٹینرز پر نہیں بلکہ ایوانوں میں بیٹھ کر حل کئے جاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی کو ہم اسمبلی میں دوبارہ آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے اور انتخابات کے لئے سیکورٹی انتظامات کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ امن و امان کے اداروں سے بات چیت کرکے حتمی فیصلہ کریں گے۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو صبر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسا نہ کیا جائے کہ انتخابات کے بعد بات چیت کے دروازے بھی کھلیں نہ رہیں۔وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرہے تھے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج تحریک انصاف کے 4 ارکان سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہورہے ہین اور ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان عوامی مفاد کا ایوان ہے اور تمام مسائل کا حل اس ایوان میں بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل سڑکوں اور کنٹینرز پر بیٹھ کر کبھی حل نہیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہا جاسکتا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی بھی یہی مثل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے استعفوں کے حوالے سے ان کو جتنی معلومات ہے اس کے مطابق ان کے استعفیٰ الیکشن کمیشن کو نہیں بھجیں گئے تھے اور اس حوالے سے اسپیکر سندھ اسمبلی قانونی حیثیت بتا سکتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات میں امن و امان کی صورت حال پر کچھ پیچیدگیاں ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ جو کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں اور وزیر داخلہ کا قلمدان بھی انہی کے پاس ہے وہ اس سلسلے میں امن و امان کی بحالی کے اداروں کے ساتھ مل کر فوج کی تعیناتی کئے جانے یا نہ کئے جانے پر کوئی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی حلقوں میں ضمنی انتخابات فوج کی زیر نگرانی کروائیں گئے ہیں لیکن ہماری پولیس اور رینجرز بھی معاملات کو کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی قیادت پر یہ لازم اور فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں اور ایک دوسرے کو جگہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد بار کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کو انتخابات کی حد تک محدود رکھیں اور معاملات کو اس حد تک نہ بڑھادیں کہ انتخابات کے بعد بات چیت کے دروازے بند نہ ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے بھی استدعا کروں گا کہ وہ ایک دوسرے کو دشمن تصور نہ کریں اور سیاسی کارکنوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

06/04/2015 - 21:33:00 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان