شہادت پاک فوج کے ہر جوان کی خواہش ہوتی ہے ،میں نے خود 1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:04:25 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:01:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:01:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:01:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 21:00:20 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:48:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:48:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:48:31 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:46:44 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:46:44 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:46:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

شہادت پاک فوج کے ہر جوان کی خواہش ہوتی ہے ،میں نے خود 1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں لڑی ہیں، میڈیا لوگوں میں مایوسی پھیلارہا ہے

سابق گورنر سندھ جنرل (ر) معین الدین حیدر کاتقریب سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 اپریل۔2015ء)سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہاہے کہ شہادت پاک فوج کے ہر سپاہی کی خواہش ہوتی ہے میں نے خود 1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں لڑی ہیں۔ وہ مصنف حسن علی آگریا کی لکھی ہوئی کتاب ”نشان حیدر“ کی تقریب میں بطور صدر محفل خطاب کررہے تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی سردار یاسین ملک اور مہمان اعزازی معروف مرحوم سرجن ڈاکٹر سید محمد علی شاہ کے نوجوان صاحبزادے ڈاکٹر سید عمران علی شاہ تھے۔

معین الدین حیدر نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرا کچھ وقت نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے میجرشبیرشریف شہید اور میجر اکرم شہید کے ساتھ گزرا ہے گوکہ میں دونوں سے تھوڑا سینئر تھا لیکن دوستانہ مراسم پھر بھی تھے انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ ملک کا زیادہ تر میڈیا مایوسی پھیلارہا ہے اور میڈیا کو پاکستان کی خوبیاں‘ عظیم لوگ اور وہ قومی ہیروز نظر نہیں آتے جنہوں نے اس ملک کیلئے اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔

انہوں نے کہا کہ کتاب ”نشان حیدر“ کے مصنف نے یہ کتاب حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر لکھی ہے میں انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں اور سرداریاسین ملک‘ ڈاکٹر عمران علی شاہ ‘سینیٹرعبدالحسیب خان اور سکندر سلطان ‘ اخلاق احمد جیسے لوگوں کے جذبے کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس تقریب کے انعقاد میں منتظمین سے تعاون کیا۔ مہمان خصوصی سردار یاسین ملک نے کہا کہ حسن علی آگریا نے ”نشان حیدر“ لکھ کر پاکستان کی نئی نسل پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔

سپاہی بڑاعظیم ہوتا ہے جو پیسوں کیلئے نہیں بلکہ شہادت کیلئے لڑتا ہے۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر سیدعمران علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے حساب سے اس کتاب کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو پتہ چلے کہ کس طرح دفاع وطن کی خاطر ہمارے شہیدوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اپنی تمام تر خدمات اپنے پیارے ملک پاکستان کیلئے پیش کرتا ہوں۔

ریئرایڈمرل فرخ احمد نے کہا کہ افواج پاکستان اس ملک کا قومی اثاثہ ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہیدوں کے والدین پر بھی فخر ہے جنہوں نے دلیر ونڈر گیارہ نشان حیدر پانے والوں کی عمدہ تربیت کی۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ اس ملک میں تین طاقتیں ہیں ایک محب وطن پاکستانی دوسری افواج پاکستان تیسری ایٹمی طاقت انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ پاکستان آرمی پرتنقیدی پروگرام نہ کرے۔

ہمارے آئی ایس آئی سے دنیا کانپتی ہے۔ ”را“ والے کیا بیچتے ہیں ہمیں اپنے عسکری اداروں کی لازمی سپورٹ کرنی چاہئے۔ کتاب ”نشان حیدر“ اس قوم اور خاص طورپر نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہے۔TDPAکے چیئرمین اور معروف تجارتی شخصیت ایس ایم منیر نے کہا کہ یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت ہے میں خوش نصیب ہوں جو آج اس تقریب کا حصہ ہوں ہمیں اس کتاب کو لازمی پڑھنا چاہئے تاکہ اپنے شہیدوں کی عظیم قربانیوں کے حوالے سے مکمل آگاہی ہو۔

حسن علی آگریا نے نشان حیدر لکھ کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ انجینئر رانا سعید احمد طور نے کہا کہ ہمارے شہداء نے اپنی جانوں کو قربان کرکے وطن عزیز کا مستقبل محفوظ کیا کسی بھی ملک کا میں افواج سب سے بلند مرتبے پر ہوتی ہے۔ ایک فرد کی شہادت بڑی ہوتی ہے یہاں تو گیارہ نشان حیدر کی بات ہے۔ میں مصنف سے کہوں گا کہ ایک کتاب ملک کے غداروں پر بھی لکھی جائے تاکہ ان کے چہرے بے نقاب ہوں‘ خواہ وہ کسی بھی عہدے پر ہوں میری خوش قسمتی ہے کہ راجپوت ہوں اور نوجوان مصنف حسن علی آگریا بھی راجپوت ہے۔

تقریب کے اہم مہمان وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی کی جگہ پر آنے والے کموڈور احسان قادر نے کہا ہماری فوج کم وسائل کے باوجود بہاری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ شہادت کا مرتبہ نصیب والوں کو ملتا ہے۔ کتاب ”نشان حیدر“ اس نسل کیلئے ایک احسان ہے جو مصنف نے اپنے قلم سے کیا ہے۔ مصنف حسن علی آگریا نے کہا کہ وہ اپنے رب کے بعد اپنی فیملی اور دوستوں خاص طور پر شارق مہر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس کی سپورٹ سے یہ کتاب لکھ سکا۔

قبل ازیں کتاب کا لکارفی خلاصہ لکھنے والے سینئر صحافی شارق میر نے کہا کہ مصنف میرے پاس ایک مسودہ لے کر آئے تھے میں نے اسے دیکھ کر انہیں شہداء پر کتاب لکھنے کا مشورہ دیا خوش ہوں کہ ایک عظیم کتاب لکھی گئی‘ گلوکارہ تبسم وارثی نے ملی نغمے گا کر محفل کو چارچاند لگائے۔ خاص مہمانوں میں سید عبدالباسط‘ بیگم سلمیٰ احمد‘ عبدالمجید‘ میرناصر عباس میجر سید وحید اختربخاری‘ کرنل یوسف‘ علیم نواب خان‘ محمود احمد خان ‘ کمال الدین‘ صابرحسین‘ اورمیڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ تقریب کے کمپیئرنگ کے فرائض معروف کمپیئر فیصل قاضی نے انجام دیئے۔ مصنف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

06/04/2015 - 20:48:31 :وقت اشاعت