حکومتی رویہ افسوسناک ہے، ایوان کو قواعد وضوابط کے مطابق نہیں چلایا جارہا،اپوزیشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:40:56 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:40:56 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:40:56 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:39:02 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:39:02 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:39:02 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:38:16 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:36:57 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:36:57 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:36:57 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 20:33:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

حکومتی رویہ افسوسناک ہے، ایوان کو قواعد وضوابط کے مطابق نہیں چلایا جارہا،اپوزیشن کو بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی، سید سردار احمد

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 اپریل۔2015ء)سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرسید سردار احمد نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں حکومتی رویے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان کو قواعد وضوابط کے مطابق نہیں چلایا جا رہا ہے اور اپوزیشن ارکان کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٴٹ کے بعد ایم کیوایم کے ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی محمد حسین کا پوائنٹ آف آرڈر قواعد وضوابط کے مطابق تھا لیکن اس کے باوجود انہیں ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

اس موقع پر محمد حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ 11 مارچ کو نائن زیرو پر چھاپے کے بعد جمعرات کو آج پہلی بار سندھ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ہم نائن زیرو سے 17 افراد کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرنا چاہتے تھے ۔ ان اسیروں کے عزیز و اقارب انتہائی کرب میں مبتلا ہیں اور انہیں اپنے پیاروں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے ۔

ایم کیو ایم کے ارکان یہ چاہتے تھے کہ اس حوالے سے حکومت سے ایوان میں وضاحت طلب کی جائے لیکن اسپیکر نے بولنے کی اجازت نہیں دی ۔ محمد حسین کا کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا پوائنٹ آف آرڈر پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا ، جو اسمبلی کے رول 232 کے تحت قواعد و ضوابط کے معیار پر پورا اترتا تھا اور ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسپیکر نے ایوان میں پی ٹی آئی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ استعفے الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے موجود ہیں یا واپس لے لیے گئے لیکن اس معاملے پر بھی ایوان میں ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ محمد حسین نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کا رویہ نامناسب ہے ، جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ وہ جب میں بولتی ہیں یا سوچتی ہیں تو ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ایوان کے تمام 168 ارکان کی سوچ بھی ان کے مطابق ہونی چاہئے ۔ محمد حسین نے کہاکہ ڈپٹی اسپیکر کو قواعد و ضوابط کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ہے جبکہ ایم کیو ایم قواعد و ضوابط کے مطابق ایوان میں اپنا جمہوری اور آئینی کردار ادا کرنا چاہتی ہے ۔

06/04/2015 - 20:39:02 :وقت اشاعت