پاکستان نے پھل و سبزیوں کے عالمی معیار میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2015 - 13:00:02 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:58:49 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:58:49 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:57:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:57:07 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:56:48 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:50:38 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:49:51 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:44:02 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:41:24 وقت اشاعت: 06/04/2015 - 12:40:14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستان نے پھل و سبزیوں کے عالمی معیار میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔06 اپریل۔2015ء) پاکستان نے معیار کی بہتری اور فروٹ فلائی سے پاک پھلوں اور سبزیوں کی ایکسپورٹ کے لیے یورپی یونین کی جانب سے دیا گیا چیلنج پورا کرنے میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے ذریعے آم کو مضر مکھیوں سے محفوظ بنانے کے بعد اب ویپر ہاٹ ٹریٹمنٹ کے ذریعے پراسیس شدہ امرود کی ایکسپورٹ کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔

پاکستان سے ویپر ہاٹ ٹریٹمنٹ کے ذریعے فروٹ فلائی کے خدشے سے پاک امرود کی پہلی کھیپ برطانیہ ایکسپورٹ کی گئی ہے 150ٹن امرو کی کھیپ برطانیہ میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی اور ایکسپورٹرز کو پہلے سے 25فیصد زائد قیمت حاصل ہوئی۔یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو آم، امرود، چیکو، بیر، کریلے، مرچ اور لوکی کوبیماریوں سے پاک کرنے بالخصوص آم اور امرود کو فروٹ فلائی سے پاک کرنے کا سخت چیلنج دیا گیا اور ناکامی کی صورت میں پاکستان پر پابندی کا خدشہ تھا تاہم پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ اور پاکستان فروٹ اینڈویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن اور پاکستان ایگری ریسرچ کونسل نے اس مشکل ٹاسک کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی مربوط مہم کے ذریعے پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔

پہلے مرحلے میں فروٹ فلائی سے پاک آم یورپی یونین ایکسپورٹ کیے گئے اور پاکستان پر پابندی کا خطرہ ٹل گیا یاد رہے یورپی یونین نے بھارت کو بھی اسی طرز کی وارننگ دی تھی اور تدارک نہ ہونے پر بھارت پر پابندی عائد کردی گئی تاہم پاکستانی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ اور پی ایف وی اے نے مشترکہ طور پر پاکستان پر پابندی کے خطرے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرمبارک کے مطابق آم کے بعد امرود کو فروٹ فلائی سے پاک کرنے کے لیے ویپر ہاٹ ٹریٹمنٹ طریقہ کار کے لیے تین ماہ تک کی جانے والی سخت کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/04/2015 - 12:56:48 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان