جامعہ کراچی : تحقیق کسی بھی ادارے کے علمی تشخص کا امتیاز ہوتا ہے جس کے لئے ساز گار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:59:24 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:57:14 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:57:14 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:36:19 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:33:51 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:29:17 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:29:17 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:27:52 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:25:27 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:25:27 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 19:23:10
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

جامعہ کراچی : تحقیق کسی بھی ادارے کے علمی تشخص کا امتیاز ہوتا ہے جس کے لئے ساز گار تعلیمی ماحول ناگزیر ہے، ڈاکٹر محمد قیصر

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔04 اپریل۔2015ء)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ جامعات میں تحقیق کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جن معاشروں اور درسگاہوں میں تحقیق کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی وہ نہ تو ایجاد واختراع کرسکتے ہیں اور نہ ہی ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں۔تحقیق کسی بھی ادارے کے علمی تشخص کا امتیاز ہوتا ہے جس کے لئے ساز گار تعلیمی ماحول ناگزیر ہے۔

پہلی مرتبہ سرکاری نجی جامعات کے اشتراک سے ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند قدم ہے۔جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم نے ہمیشہ عظیم محققین ،اسکالرز اور دانشور پیداکئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام اور اقراء یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ”مینجمنٹ،تعلیم اور سوشل سائنسز میں تحقیق“ کی افتتاحی تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اقراء یونیورسٹی کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو آٹھ ماہ کے قلیل عرصے میں مذکورہ کانفرنس کے خاکے کو عملی جامہ پہنانے پر کافی سراہا۔اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹرانسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ سماجی علوم کا مطالعہ کئے بغیر ہم اچھے شہری نہیں بن سکتے اور تحقیقاتی شعبہ میں سماجی علوم کے قابل محققین کا فقدان ایک لمحہ فکریہ ہے جس کا سدباب وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے۔

اقرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کیپٹن(ر) یواے جی عیسانی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں تحقیق اور اس کے طریقے کار میں انقلابی تغیرات رونماہوئے ہیں ،پبلک اور پرائیوٹ جامعات کا یہ حسین امتزاج اور شراکت قابل داد ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دونوں ادارے مزید قریب آئے اور اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے میں اپنا مثبت کرداراداکریں۔

انہوں نے اس اشتراکی کانفرنس کے انعقاد پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر اور رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کے تعاون کو سراہا۔رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے بیرون ممالک سے آئے ہوئے بین الاقوامی اسکالرز ،اساتذہ ،مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سماجی علوم کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

سماجی علوم پر تحقیق ہماری سماجی ،معاشرتی اور اقتصادی مسائل سمیت عوامی مشکلات کا حل بھی پیش کرسکتی ہے ،جس کے لئے تحقیقی رجحان میں اضافہ ہونا چاہیئے ۔آسٹریلوی نژاد رئیس کلیہ سماجی علوم اقراء یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مارگریٹ میری میڈن نے تمام بین الاقوامی اسکالرز،شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد قیصر ،شیخ الجامعہ اقراء یونیورسٹی یواے جی عیسانی ،ڈاکٹر عشرت حسین،ڈاکٹر مونس احمر اور شرکاء کا شکریہ اداکرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ بین الاقوامی کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔کانفرنس کے بیک وقت چار اجلاس کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ،کونسل روم ، آڈیوویژل سینٹر اور ڈاکٹر منظورالدین ہال جامعہ کراچی میں منعقد ہونگے۔

04/04/2015 - 19:29:17 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان