سندھ میں جرگے اور پنچائتیں غریب عوام کے لیے ناسور بن چکی ہیں،حلیم عادل شیخ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:23:53 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:23:53 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:20:12 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:18:44 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:18:44 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:17:04 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:17:04 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:17:04 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:15:58 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:15:58 وقت اشاعت: 04/04/2015 - 17:15:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ میں جرگے اور پنچائتیں غریب عوام کے لیے ناسور بن چکی ہیں،حلیم عادل شیخ

جرگوں کے واقعات میں غریب اور امیر کی موت کے معاوضے بھی الگ الگ ہیں،صدر مسلم لیگ (ق)سندھ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔04 اپریل۔2015ء)مسلم لیگ سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہسندھ بھر میں جرگے اور پنچائتیں معاشرے کے لیے ناسور بن چکی ہیں ،حکومت سندھ کی اقرباء پروری نے نام نہاد عزت دارجاگیر دار وں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ،جس کی وجہ سے سندھ بھر میں لاقانونیت اور ناانصافی عام ہیں ۔ڈھرکی میں کہیں چادریں بیچنے والی معصوم بچی کوتشدد کے بعد زندہ جلادیا جاتا ہے ،کہیں دادو میں پولیس کا ایک اعلی ٰافسراسکول کی طالبہ کوگھریلو جھگڑے پر گھر میں گھس کر مارجاتا ہے تو کہیں کندھ کوٹ میں غربت کا ماراغریب کسان اپنی چار بیٹیوں کو بیچتا ہوا دکھائی دیتا ہے کیا ان واقعات کا کوئی پوچھنے والا ہے یا نہیں ؟۔

سانگھڑ میں ایک بااثر زمیندار تھر سے گندم کی کٹائی پر آئے ہوئے مزدور ہیرو بھیل کو گھر میں بلاکر گولی مار دیتا ہے ورثاء کی جانب سے تین دن تک لاش کے ساتھ دھرنا جاری رکھنے کے باجود مقامی پولیس نام نہاد وڈیروں کے خلاف خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اس پر حکومت بھی چپ سادھے رکھتی ہے کیا یہ ریاستی دہشت گردی نہیں ہے کیا اس کے خلاف کوئی آپریشن نہیں بنتا؟۔

۔آخر یہ جرگے اور یہ پنچائتیں کب ختم ہونگی کب ہوا کی بیٹی کو ونی اور کاروکاری سے کوئی بچانے آئے گااور سندھ کی غریب عوام کو جنگل کے اس قانون سے نجات ملے گی ، ان جرگہ اور پنچائتوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04/04/2015 - 17:17:04 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان