رجسٹریشن کے نام پرلاکھوں وصول کئے جاتے ہیں جومدارس کیلئے ممکن نہیں، مفتی محمد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اپریل

کراچی

رجسٹریشن کے نام پرلاکھوں وصول کئے جاتے ہیں جومدارس کیلئے ممکن نہیں، مفتی محمد نعیم

تعاون کے باوجود غیر ملکی طلبہ کے ویزوں کی ایکسٹنشن پر پابندی سمجھ سے بالاترہے،علماء سے گفتگو

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02 اپریل۔2015ء)وفاق المدارس مجلس عاملہ کے رکن وجامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ مدارس رجسٹریشن کوصوبائی حکومت کامعاملہ قراردیکر رجسٹریشن فارم کے بغیرمدارس سے کوئف طلبی کرنے والے اداروں کے خلاف اقدام نہ کرناوفاقی حکومت کاسنگین مذاق ہے،رجسٹریشن کے نام پر لاکھوں وصول کیے جاتے ہیں جو مدارس کیلئے ممکن نہیں ، رجسٹریشن کا راگ االاپنے والی حکومت مدار کیلئے فری اور آسان رجسٹریشن کا انتظام کرے ،وفاق المدارس کے تعاون کااعتراف کرنے کے باوجودمنسلک بعض مدارس کی بندش اور غیر ملکی طلبہ کے ویزوں کی ایکسٹنشن پر پابندی عائد کرنا سمجھ سے بالاترہے،جمعرات کو جامعہ بنوریہ عالمیہ مختلف علماء کرام کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد نعیم نے کہاکہ مہنگائی بے روز گاری کے اس دور میں مدارس بے لوث ہوکر تعلیم کو عام کررہے ہیں قوم کے بچوں کو تعلیم ،لباس اور قیام وطعام کی سہولتیں مفت مہیا کرکے تعلیم کو عام کرکے وطن عزیز کی تعمیر وترقی میں رضا کارانہ طور پر قوم کے تعاون سے حکومت کا ہاتھ بٹارہے ہیں،اس کے باوجود حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے نام پر مدارس سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں جو مدارس کیلئے ادا کرنا ممکن نہیں ہے ، حکومت کو چاہیے کہ وہ اسکول ،کالجز اور ینورسٹیز کی طرز پر مدارس کے یوٹیلٹی بلز کی عام معافی کا اعلان کرے کیونکہ مدارس تعلیمی ادارے ہیں اور ملک میں تعلیم کو عام کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہکوئی بھی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

02/04/2015 - 19:14:27 :وقت اشاعت