سعودی عرب میں پاکستانی فوج بھیجنے سے قبل حکومت فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس طلب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:37:52 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:37:52 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:37:52 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:37:15 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:37:15 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:29:20 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:28:15 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:28:15 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:28:15 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:27:02 وقت اشاعت: 29/03/2015 - 19:27:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سعودی عرب میں پاکستانی فوج بھیجنے سے قبل حکومت فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے ، مولانا فضل الرحمن

سیاست دان مل کر ملکی مفاد کے حوالے سے کوئی حل تلاش کرسکیں لیکن حرمین شریفین پر براہ راست حملے کی باتیں کرنے والوں کو اپنی حد میں رہنا چاہئے، , مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ملکی اور عالمی حالات کے ضمن میں سیر حاصل اور تسلی بخش رہی، پیر پگارا ، , کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوں، پیر پگارا سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار29مارچ ۔2015ء) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج بھیجنے سے قبل حکومت فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے تاکہ سیاست دان مل کر ملکی مفاد کے حوالے سے کوئی حل تلاش کرسکیں لیکن حرمین شریفین پر براہ راست حملے کی باتیں کرنے والوں کو اپنی حد میں رہنا چاہئے۔

کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوں۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ملکی اور عالمی حالات کے ضمن میں سیر حاصل اور تسلی بخش رہی۔ ان کا تجزیہ میرے لئے علاقائی اور عالمی حالات کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پیر پگارا کی رہائش گاہ راجہ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما پیر صدر الدین شاہ راشدی، کامران ٹیسوری، جے یو آئی (ف) کے رہنما قاری محمد عثمان اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن پیر صاحب پگارا کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ راجہ ہاؤس ظہرانے میں پہنچے اور ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارا آپس میں محبت کا رشتہ ہے۔

میرے اور ان کے والد آپس میں دوست تھے اور ہم نے محبت کے اس رشتے کو اب بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم بزرگوں کی اس روایت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری گزشتہ روز آصف علی زرداری اور آج پیر صاحب پگارا سے ملاقات اگرچہ کسی خاص ایجنڈے کا حصہ نہیں لیکن موجودہ حالات میں انتہائی اہم ہے۔ میں نے خود یہ کوشش کی ہے کہ ان سے ملاقات کرکے صورت حال پر بات چیت کی جائے تاکہ صورت حال کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے۔

اس وقت ملک کافی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدت اور احترام، بھائی چارے اور تاریخی ہیں، جن کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب نے ہماری ہر آزمائش پر ہمارا ساتھ دیا اور ہم بھی پورے اترے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عربوں کے باہمی معاہدات کے نتیجے میں جو بھی فیصلہ ہو انہیں خود کرنے دیا جائے۔ کچھ لوگ بے احتیاط ہو کر بات کرتے ہیں اور حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی باتیں ہوتی ہیں۔

میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور حد میں رہیں اور اس طرح سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوں گے۔ ہمیں کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جس سے عالم اسلام مشکلات میں پڑجائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمیں امن وسلامتی اور بھائی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

29/03/2015 - 19:29:20 :وقت اشاعت