کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت یا طبقے نہیں جرائم پیشہ افراد کیخلاف ہے ،وزیراعلیٰ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:20:41 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:20:41 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:20:41 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:19:31 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:19:31 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:18:46 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:17:55 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:17:55 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 17:17:55 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 16:58:52 وقت اشاعت: 26/03/2015 - 16:56:59
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت یا طبقے نہیں جرائم پیشہ افراد کیخلاف ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26مارچ۔2015ء) وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہے ۔ کراچی آپریشن کے دوران رینجرز اور پولیس کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے اغواء برائے تاوان کے واقعات تقریباً ختم اور ٹارگٹ کلنگ میں 60فیصد کمی آئی ہے ۔اسٹریٹ کرائم میں بھی نمایاں کمی آئی ہے ۔

حکومت نے پولیس کا بجٹ گزشتہ سال کے 32ارب کے مقابلے میں اس سال 60ارب روپے کا کردیا ہے ،جس سے ساز و سامان کی خریداری کے ذریعہ پولیس کو مضبوط کیا جائے گا ۔وفاق نے 10ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال نہیں ملے ہیں ۔گورنر سندھ تبدیل ہورہے ہیں یا نہیں مجھے اس کا علم نہیں ہے ۔پولیس کی بہتر کارکردگی کے باعث تین اہم کیسز جن میں سانحہ بلدیہ ٹاوٴن ،سانحہ شکار پور اور ڈاکٹرخالد محمود کا قتل شامل ہیں کے ملزمان گرفتار ہوئے ہیں ۔

۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔اس موقع پر سندھ کے وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل انعام میمن ،سیکرٹری داخلہ مختار سومرو ،وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین وقار مہدی ،راشد ربانی ،آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور دیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کے ساتھ امن و امان کے حوالے سے میٹنگ ہوئی ،جس میں کراچی آپریشن میں سندھ حکومت ،پولیس اور رینجرز کی کارکردگی کو سراہا گیا ۔

یہ آپریشن ستمبر 2013کو تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے شروع ہوا ۔کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قابل اعتراض بات تھی ۔ہمارا آپریشن کسی جماعت یا گروہ کے خلاف نہیں ،مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف ہے ۔آپریشن کا آغاز اپنی فورسز پر انحصار کرکے کیا ۔قوم کی دعاوٴں اور میڈیا کے تعاون کی وجہ سے صوبائی حکومت نے بہتر نتائج حاصل کرلیے ہیں اور بڑے جذبے کے ساتھ ہم آپریشن کو آگے بڑھا یا ہے ۔

آصف علی زرداری کی مشاورت اور سرپرستی بھی حاصل رہی ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آپریشن کے آغاز پر ہمارے چار بنیادی اہداف تھے ،جن میں ٹارگٹ کلنگ ،اغواء برائے تاوان ،بھتہ خوری اور دہشت گردی کا خاتمہ ۔حکومت نے پہلے قوانین کے تحت رینجرز کو اختیارات دیئے اور پھر تحفظ پاکستان ایکٹ کے ذریعہ رینجرز کو مزید اختیارات مل گئے اور یہ ایکٹ ملکی حالات کے مدنظر رکھ کر لایا گیا ۔

اس قانون کے بعد رینجرز اور پولیس کے پاس ملزم کو 90دن تک تفتیش کے لیے رکھنے کی مہلت ہے ۔بعد ازاں سب کی مشاورت سے فوجی عدالتیں قائم ہوئیں ،جس میں یہ طے ہوا کہ فوجی عدالتوں میں جانے والے کیسز کا فیصلہ یہ عدالتیں ایک ہفتے کے اندر کریں گی ۔حالانکہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں پر بھی ایک ماہ کے اندر فیصلے کرنے کی پابندی ہے ۔لیکن مقدمات سالوں سے لٹکے ہوئے ہیں ۔

ہم نے صوبے میں امن و امان کو بہتر کرنے کے لیے 10انسداد دہشت گردی کی مزید عدالتیں قائم کی ہیں ۔پارلیمنٹ یا ہم نے جو بھی کیا یہ ملک کے مفاد میں کیا ہے ۔فوجی عدالتوں کے لیے ہمارے پاس 82کیسز تھے ۔جانچ پڑتال کے بعد 64کیسز بھیج دیئے گئے ہیں ۔21ویں ترمیم کے بعد اپیکس کمیٹیاں بھی بنی ہیں ۔وفاق نے اپنا قومی ایکشن پلان بنایا اور ہم نے اپنا 14نکاتی ایکشن پلان بنایا ،جس کا مقصد دہشت گردی اور جرائم کا خاتمہ کرنا تھا ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان قوانین کے نفاذ کے بعد کارکردگی میں بہتری آئی ہے ۔رینجرز اور پولیس کی بہتر کارکردگی کے باعث کئی اہم بلائنڈ کیسز کے ملزمان کو گرفتار یا مارا گیا ہے ۔سانحہ شکار پور کے بیشتر ملزمان گرفتار ہوئے اور ماسٹر مائنڈ بلوچستان میں مارا گیا ۔جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قاتل بھی گرفتار ہوئے ہیں اور عدالت میں ان کا چالان بھی پیش کردیا گیا ہے حالانکہ گرفتار ہونے والوں میں بااثر افراد بھی شامل تھے ۔

سانحہ بلدیہ ٹاوٴن کا اہم ملزم شکیل عرف چھوٹو گرفتار ہوا ہے جو اس سانحہ کا اصل ملزم ہے یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 222افسران و جوان دہشت گردی کا نشانہ بنے ۔ہم نے ان کا معاوضہ پانچ لاکھ سے بڑھا کر 25لاکھ کردیا ہے اور پولیس بجٹ میں بھی اضافہ کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں ہمیں آپریشن کے آغاز پر 10ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک فراہم نہیں کیے گئے ہیں ۔



مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26/03/2015 - 17:18:46 :وقت اشاعت