حبیب جالب کی یادمیں اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے دفتر میں لیکچر کا اہتمام کیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:54 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:21 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:21 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:21 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:14:27 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:14:27 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:14:27 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:32:36 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:32:36 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:25:03 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:25:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

حبیب جالب کی یادمیں اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے دفتر میں لیکچر کا اہتمام کیا گیا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2015ء)اردو دنیا کے ممتاز معروف عوامی شاعر حبیب جالب # کی یادمیں اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے دفتر میں ”حبیب جالب#کی مزاحمتی شاعری“ کے عنوان سے ایک کلیدی لیکچر کا اہتمام کیا گیا اس تقریب ”بیاد حبیب جالب#“ میں معروف شاعر اورنقاد فراصت رضوی نے کلیدی خطبہ دیا دانشوراور ناقد محمد یامین عراقی نے جالب کی مشہور نظموں کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا ۔

تقریب کی صدارت صاحبِ طرز بزرگ شاعر رفیع الدین راز نے کہاکہ حبیب جالب # نے اپنی زندگی میں جس ایثارو قربان مظاہرہ کیا ہے، اُس کے نمونے کم اہل قلم کی زندگی میں ملتے ہیں ۔ جالب کی شاعری ظالموں پرتنقید اور سچائی کاروشن آئینہ تھی۔ جالب جیسے شاعر صدیوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اُن کی شاعری پاکستان کے عہد آمریت میں ایک روشن چراغ کی طرح تھی آج اُردو دنیا اتنے بڑے عوامی شاعر کا کوئی تانی پیش نہیں کرسکتی۔

جالب کو پاکستانی ادب میں ہمیشہ ایک اونچا اور باعزت مقام حاصل رہے گا۔فراصت رضوی نے کہا کہ وہ کبھی ریاستی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہُوئے اُنہیں کوئی آمرکبھی جُھکانہیں پایا۔ اُنہوں نے پاکستان میں معاشی ساوات اور جمہوریت کے قیام کے لئے اپنے قلم سے جدوجہد کی اِس جُرم حق گوئی کی پاداش میں اُنہیں زنداں کی سلاخیں نصیب ہوئیں مگر انسانیت اور جمہوریت پر اُن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25/03/2015 - 17:14:27 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان