پاکستانی آٹو سیکٹر سے متعلق زیادہ منافع کمانے کا مفروضہ غلط ، آٹو انڈسٹری بھاری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:22:32 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:53:57 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:53:57 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:52:11 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:52:11 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:49:38 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:49:38 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:20:19 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:19:25 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:18:35 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 15:12:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستانی آٹو سیکٹر سے متعلق زیادہ منافع کمانے کا مفروضہ غلط ، آٹو انڈسٹری بھاری سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے باوجود سرمایہ کاری پر ریٹرن کے لحاظ سے سب سے پست منافع کی حامل انڈسٹری بن چکی ہے

آٹو انڈسٹری کے منافع میں کمی کی وجوہات میں مارکیٹ کا محدود حجم سرفہرست ، استعمال شدہ گاڑیوں کی بھرمار سب سے بڑا مسئلہ ؛پاپام کی تحقیقی رپورٹ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2015ء)پاکستانی آٹو سیکٹر کے بارے میں سب سے زیادہ منافع کمانے کا مفروضہ غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی آٹو انڈسٹری بھاری سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے باوجود سرمایہ کاری پر ریٹرن کے لحاظ سے سب سے پست منافع کی حامل انڈسٹری بن چکی ہے۔پاکستانی آٹو انڈسٹری کے منافع میں کمی کی وجوہات میں مارکیٹ کا محدود حجم سرفہرست ہے جس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی بھرمار سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

مارکیٹ کا حجم محدود ہونے کی وجہ سے پاکستانی آٹو اسمبلرز اور وینڈر انڈسٹری اپنی مکمل پیداواری استعداد استعمال نہیں کرپارہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیوپارٹس اسسریز مینوفیکچررز( پاپام) کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق سال 2014میں پاکستان کی آٹو اسمبلر انڈسٹری کے منافع کی شرح 5سے 9فیصد رہی جو پاکستان کی دیگر بڑی صنعتوں سیمنٹ انڈسٹری، پٹرولیم، فنانشل سیکٹر اور کنزیومر گڈز بنانے والی ایف ایم سی جی انڈسٹری کے منافع سے کئی گنا کم ہے۔

تحقیق کے مطابق پاک سوزوکی موٹر نے دسمبر 2014کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 2.90ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو اس کے ریونیو کا 5.32فیصد ہے انڈس موٹر کمپنی نے جون 2014کو ختم ہونیو الی مدت کے دوران 5.05ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع کمایا جو اس دوران کمپنی کے ریونیو کا 8.86فیصد رہا، ہونڈ اٹلس کارز نے مارچ 2014 کو ختم ہونے والی مدت کے دوران 2.09ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع کمایا جو اس مدت کے ریونیو کا 5.35فیصد رہا۔

اس کے برعکس سیمنٹ سیکٹر میں جون 2014کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 4لسٹڈ سیمنٹ کمپنیوں کا قبل از ٹیکس منافع 29سے 35فیصد کے درمیان رہا۔لکی سیمنٹ کو 14.45ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل ہوا جو اس مدت کے ریونیو کا 33.55 فیصد رہا، فوجی سیمنٹ نے 4.50ارب روپے کا منافع کمایا جو اس کے ریونیو کا 25.71فیصد رہا، ڈی جی خان سیمنٹ کا 7.85ارب روپے کا منافع اس کے مجموعی ریونیو کا 29.57 فیصد جبکہ کوہاٹ سیمنٹ کا 4.376ارب روپے کا منافع اس کے ریونیو کا 34.28فیصد رہا۔

پاکستان کے پٹرولیم ریفائننگ سیکٹر

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25/03/2015 - 16:49:38 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان