سندھ ،بلوچستان کے سرحدی مقامات پر سکینرز کی تنصیب ناگزیر ہوچکی ہے، وزیراعلیٰ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:11:55 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:11:55 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:04:15 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:04:15 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:04:15 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:03:10 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:03:10 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:03:10 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 23:02:24 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 22:57:32 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 22:57:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ ،بلوچستان کے سرحدی مقامات پر سکینرز کی تنصیب ناگزیر ہوچکی ہے، وزیراعلیٰ سندھ ،

دہشتگردسندھ میں داخل ہو کر کارروائیاں کرکے واپس چلے جاتے ہیں،شکارپور امام بارگاہ کے بم دھماکے اس کا واضح مثال ہے، اجلاس سے خطاب

کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 24 مارچ 2015ء) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے سرحدی مقامات پر ا سکینرز کی تنصیب ناگزیر بن چکی ہے، کیونکہ دہشتگردسندھ میں داخل ہوکردہشتگردی کی کارروائیاں کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔شکارپور امام بارگاہ کے بم دھماکے میں ملوث دہشتگردوں کی نشاندہی اسکا واضح مثال ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ بلوچستان کی حکومت سے بات چیت کریں گے اور دونوں صوبوں کے سرحدی علاقوں کی کڑی نگرانی کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، صوبائی سیکریٹری داخلہ مختیارسومرو،آئی جی جیل خانہ جات، خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں و دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی میں 2014میں دہشتگردی،قتل،اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ڈکیتی کی سنگین وارداتیں 48فیصد یعنی(4125) واقعات ہوئے،حیدرآباد میں 16فیصدیعنی (1351)واقعات ہوئے،لاڑکانہ میں 14فیصد یعنی(1210)، سا نگھڑ میں 10فیصد یعنی(875)، شہید بینظیر آباد میں 8فیصد یعنی(711) اور میرپورخاص میں 4فیصد یعنی(301) واقعات ہوئے۔

صوبے بھر میں جرائم کا مزید بریک اپ دیتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈکیتی اور رہزنی کی 54فیصد یعنی(4655)وارداتیں،قتل کی 38.5فیصد یعنی (3294) واقعات ،بھتہ خوری کے 5.2فیصد یعنی(449)اغوا برائے تاوان کے 1.7فیصد یعنی 26واقعات رونما ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سال 2015 میں 23مارچ 2015تک269مجرم مارے گئے جن میں سے 67دہشتگرد،42لیاری گینگ وار کے کارندے،11اغوا کار اور 149ڈاکؤں تھے۔

یہ تعداد 2014میں 858تھی۔2015میں صوبے بھر سے ناجائز اسلحے کی برآمدگی سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے کراچی میں بم بنانے والی فیکٹری کی نشاندہی کرکے اسے مسمار کیا گیا۔اس کے علاوہ 200کلو گرام آتشگیر مادہ بھی برآمد کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 6بم ، 2پی آر جی 7راکیٹ،4خودکش جیکٹس،168رائفل گرنیڈ،ایک جی تھری رائیفل،81کلاشنکوف،204شارٹ گن اور 2108پسٹل بھی برآمد کئے گئے۔

آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ 2013میں روزانہ قتل کی شرح 7.8فیصد، 2014میں 4.86جوکہ 2015میں کم ہوکر2.7فیصدیعنی (226) پر پہنچ گئی ہے۔ جنوری تا مارچ 2015تک کے تین ماہ کا پچھلے سال کے اس عرسے سے تناسبی جائزہ پیش کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس نے کہا کہ سال2014کے پہلے تین مہینوں میں 315قتل کے مقدمات درج ہوئے جبکہ رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں صرف 226کیس درج ہوئے ہیں اور اسی حساب سے 89قتل کے کیس کی کمی واقع ہوئی ہے۔

2014کے اسی عرصے میں 35لوگ اغوا برائے تاوان کا شکار ہوئے جبکہ رواں سال یہ تعداد صرف 19ریکارڈ کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح بھتہ خوری کے کیسز بھی 2014کے پہلے تین مہینوں میں 80جبکہ 2015میں 55جبکہ اسٹریٹ کرائمز کے 2014میں 542کیسیز اور رواں سال میں 345ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سندھ پولیس کی طرف سے جرائم پر قابو پانے کو ثابت کرتی ہیں جس سے ہر طرح کے جرائم میں کمی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/03/2015 - 23:03:10 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان