بین الاقوامی دباوٴ نے پاکستان میں ایل این جی درآمد کیمنصوبے کا مستقبل خطرے میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:16:22 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:15:23 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:14:02 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:14:02 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:12:32 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:06:57 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 13:05:39 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 12:58:37 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 12:58:37 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 12:58:37 وقت اشاعت: 24/03/2015 - 12:57:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

بین الاقوامی دباوٴ نے پاکستان میں ایل این جی درآمد کیمنصوبے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24مارچ۔2015ء) بین الاقوامی دباوٴ اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے ایل این جی کی درآمد میں شفافیت سے متعلق اعتراضات نے پاکستان میں ایل این جی کی درآمد کے منصوبے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ قطر کی گیس سپلائر کمپنی کی جانب سے پورٹ قاسم کی مطلوبہ گہرائی، ایل این جی کی آمد کے دوران جہازوں کی آمدورفت کی مینجمنٹ اور روشنی کے انتظامات پر اعتراضات نے بھی منصوبے کو تاخیر سے دوچار کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔

پاور سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی درآمد حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ایل این جی فراہم نہ کرنے کے لیے مسلسل دباوٴ کا سامنا ہے تاہم سیاسی قیادت نے اس دباوٴ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایل این جی کے ذریعے پاکستان میں توانائی کا بحران کم کرنے کے سلسلے میں موسم گرما میں پاور اور سی این جی سیکٹر کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد کا فیصلہ کیا، اس فیصلے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قطر کی گیس سپلائی کمپنی کی جانب سے پورٹ قاسم پر ڈرافٹ کی مطلوبہ گہرائی اور دیگر انتظامات پر اعتراضات کی شکل میں پہلے پارسل کی درآمد سے کچھ روز قبل سامنے آئے جس کے بعد ایل این جی کی درآمد میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایل این جی کو گیس میں کنورٹ کرنے کی سہولت فراہم کرنے والی اینگرو ایل این جی کمپنی کا کہنا ہے کہ قطری گیس کمپنی کی جانب سے پورٹ اور ٹرمینل سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات دور کرنا پورٹ قاسم اتھارٹی کی ذمے داری ہے، اینگرو ایل این جی اپنی تمام ذمے داریاں پوری کر چکی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ قطر سے باضابطہ معاہدے کے بغیر ہی ایل این جی کا پہلا پارسل درآمد کیا جا رہا ہے، یہ ایل این جی دبئی میں لنگر انداز ”فلوٹنگ، اسٹوریج اور ری گیسی فکیشن یونٹ (ایف ایس آر یو) کے ذریعے ہی درآمد کی جارہی ہے، ایگزیکویٹ نامی ایف ایس آر یو پاکستان کے لیے 68ہزار کیوبک میٹر ایل این جی لے کر 22مارچ کو پاکستان کی بندرگاہ پورٹ قاسم کے لیے روانہ ہوچکا ہے جو 26 مارچ کی شام یا 27مارچ کی صبح تک پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوجائے گا۔

درآمد کی جانے والی 68 ہزار کیوبک میٹر ایل این جی کنورٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/03/2015 - 13:06:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان