استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پاکستانی معیشت کے خسارے کا باعث
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:42:18 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:42:18 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:39:39 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:39:39 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:39:39 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:35:19 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:35:19 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:35:19 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:33:53 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:33:53 وقت اشاعت: 22/03/2015 - 16:33:53
- مزید خبریں

کراچی

استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پاکستانی معیشت کے خسارے کا باعث

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22مارچ۔2015ء)پاکستان میں درآمد ہونے والی ہر استعمال شدہ گاڑی پرزہ جات کی مقامی صنعت کے لیے 4 لاکھ روپے خسارے کا سبب بن رہی ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں جن سے پرزہ جات کی مقامی صنعت کو مجموعی طور پر 100 ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

پرزہ جات کی مقامی صنعت کی نمائندہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹوپارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مقامی صنعت پر پڑنے والے اثرات سے متعلق خصوصی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے دیے جانے والے گفٹ، رہائش کی تبدیلی اور بیگج اسکیموں کے غلط استعمال کے سبب استعمال شدہ گاڑیوں کی ''منظم تجارت'' نے پاکستانی آٹو انڈسٹری بالخصوص پرزہ جات کی تیاری میں کی گئی 100 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان میں لگ بھگ 1975 پرزہ جات بنانے والے (آٹو پارٹس مینوفیکچررز) کام کر رہے ہیں جن میں سے پہلی سطح (ٹیئر ون) کے 375 اور دوسری سطح (ٹیئر ٹو) کے 1600 مینوفیکچررز شامل ہیں۔ پاکستان میں تیار

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22/03/2015 - 16:42:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان