عالم دین اور اسکالرز کے تحقیقی کام کا مطالعہ کیا جائے تو صحیح اور موضوعہ واقعات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید مقامی خبریں

وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:56:10 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:56:10 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:52:09 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:52:09 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:52:09 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:40:38 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:40:38 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:14:54 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:51:14 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:49:06 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:49:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

عالم دین اور اسکالرز کے تحقیقی کام کا مطالعہ کیا جائے تو صحیح اور موضوعہ واقعات اور احادیث میں فرق معلوم کرنا مشکل نہیں،ڈاکٹریاسین مظہر صدیقی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مارچ۔2015ء)سیرت النبی ﷺ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ان میں بعض واقعات اور احادیث کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صحیح نہیں۔عالم دین اور اسکالرز کے تحقیقی کام کا مطالعہ کیا جائے تو صحیح اور موضوعہ واقعات اور احادیث میں فرق معلوم کرنا مشکل نہیں۔ڈاکٹر شبلی نعمانی کے بعدپروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی دوسرے دینی اسکالر ہیں جنہوں نے سیرت کے اولین ماخذ پر اسقدر مدلل تحقیق اور گفتگو کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی اردو یونیورسٹی، سیرت چیئر کے تحت ”سیرت نگاری کے اصول “کے موضوع پر ہونے والے پانچویں توسیعی خطبے سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا ہر وہ لمحہ اہم ہے جس میں ، میں سیرت نبوی کے حوالے سے کوئی بھی خدمت سرانجام دے سکوں۔ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی تیسری بار ہماری درخواست پر اردو یونیورسٹی میں توسیعی خطبہ دینے تشریف لائے ہیں،جس پر ہم انکے بے حد شکر گزار ہیں۔

سیرت چیئر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان نے پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی کے بارے میں بتایا کہ وہ عرصہ دراز تک بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک رہے ہیں، انکا تعلق شعبہ تاریخ اسلام سے ہے ۔ وہ 25سے زائد کتب اور 100سے زائد تحقیقی مقالہ جات تحریرکرچکے ہیں اور دنیا بھر کی جامعات میں اساتذہ اور طلبا کو اپنے خطبات سے فیضیاب کرتے رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے سیرت النبی ﷺکے اصول کے موضوع پر توسیعی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ مولانا شبلی نے سیرت نبوی کے اصول طے کئے جس کے تحت محقق کو سب سے پہلے قرآن پاک اور پھر مستند حدیثوں سے مدد لینا چاہئے۔قرآن شریف سے اضافے جزوی ہوتے ہیں۔سیرت کی روایات کے مقابلے میں حدیث کی روایات کو ہر حال میں ترجیح حاصل ہوگی۔سیرت نگاری کا یہ سلسلہ بہت روایتی ہے کہ حدیث کی دو یا تین کتابوں کی مدد سے ایک نئی کتاب لکھ لی جاتی ہے۔

دراصل ہر تحقیق میں نئی بات کو سامنے لانا چاہئے۔سیرت میں تاریخی اور سوانحی واقعات بھی ہوتے ہیں جن میں زیادہ چھان بین کی ضرورت ہوتی ہے۔ محقق مختلف احادیث و روایات کو آپس میں جوڑ کر واقعات کی صورت میں تحریر کردیتے ہیں اس میں معلوم نہیں ہوتا کہ کونسا واقعہ کس حدیث سے جڑا ہوا ہے۔اگر کسی موضوع پر اجماع ہوجائے تو اسے حدیث پر اہمیت حاصل ہوگی اور وہ محدثین کے لئے قابل قبول ہوگی۔

پروگرام کے میزبان ڈاکٹر عبدالماجد نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کی کوششوں سے جامعہ اردو میں مدارس دینیہ کے طلبا کے لئے بی اے اور ایم اے کے شعبہ معادلہ کا قیام عمل میں آیا ہے اسکے علاوہ یہاں کے طلبا کو ایم اے اور ایم فل میں بڑی تعداد میں داخلے بھی دیئے گئے ہیں، شعبہ الحاق برائے مدارس دینیہ کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت طلبا ء شہادت العالیہ اور شہادت العالمیہ کی تعلیم کے دوران ہی جامعہ اردو سے بی اے اور ایم اے کرسکتے ہیں۔ پروگرام میں قرات قاری حامد محمود اور نعت قاری عبدالبصیر نے پیش کی۔ پروگرام کے اختتام پر مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کو طلبا ء کی طرف سے پھول پیش کئے گئے۔

19/03/2015 - 21:40:38 :وقت اشاعت