سندھ حکومت کا سرکاری طبی مراکز کو سرکاری ونجی شعبے کے پانچ معروف اداروں کے ذریعے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:14:54 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:14:54 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:13:18 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 21:13:18 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:57:03 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:57:03 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:57:03 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:51:14 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:51:14 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:49:06 وقت اشاعت: 19/03/2015 - 20:38:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ حکومت کا سرکاری طبی مراکز کو سرکاری ونجی شعبے کے پانچ معروف اداروں کے ذریعے چلانے کا معاہدہ،

نجی و سرکاری شراکت داری کا جدید خیال سابق صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے دیاہے، وزیراعلیٰ سندھ

کرا چی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مارچ۔2015ء)سندھ حکومت نے عوام کو انکی دہلیزپراعلیٰ معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے منتخب سرکاری طبی مراکز کو سرکاری ونجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ)کے تحت نجی شعبے کے پانچ معروف اداروں کے ذریعے چلانے کا معاہدہ کیا ہے۔یہ معاہدہ جمعرات کووزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں کیا گیا ۔

انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکیوٹو افسر(سی ای او) ڈاکٹر عبدالباری خان نے ضلع بدین کی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چلانے، جبکہ نجی ادارے ہینڈزکے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر غفار بلونے بن قاسم ،گڈاپ ٹاؤں کے تمام یونٹس اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر خیرپورکے انتظامی امور چلانے کیلئے معاہدہ پر دستخط کئے۔اسی طرح امن فاؤنڈیشن کی ڈاکٹر سعدیہ قریشی نے تمام اضلاع میں سندھ ایمبولنس سروس چلانے،جبکہ انٹیگریٹیڈ ہیلتھ سروسز کے ڈاکٹر محمود نے صوبے بھر کے تمام دیہی صحت مراکز ماسوائے ٹھٹھہ اور سجاول کے دیہی صحت مراکز،تعلقہ ہیڈکوارٹر نوابشاہ، لاڑکانہ اور شہدادکوٹ کے انتظامات چلانے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے۔

میرلین انٹرنیشنل کے سربراہ منظور بلوچ نے ٹھٹھہ، سجاول اور میرپورخاص کے دیہی ، تعلقہ اور ضلعی ہیڈکوارٹرصحت مراکز اور تعلقہ ہیڈکوارٹر غلام شاہ لاکھو کے انتظامات چلانے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔حکومت سندھ کی جانب سے محکمہ صحت کے اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر خالد قریشی نے معاہدوں پر دستخط کئے۔معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، صوبائی وزیر صحت جام مہتاب حسین ڈہر، صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر پارلیامانی امور ڈاکٹر سکندر علی میندھرو، چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن،حکومت سندھ کے دیگر اعلیٰ افسران اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے نامور افراد بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نجی و سرکاری شراکت داری کا جدید خیال سابق صدر مملکت اور کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے دیا اور وہ عام لوگوں کو صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہترین خدمات فراہم کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہارکر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج حکومت سندھ نے نجی و سرکاری شراکت داری کے نقط پر عمل کیا ہے۔

جس کے ذریعے نہ صرف صوبے کے عوام کو معیاری اورطبی سہولیات میسر ہونگی، بلکہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کے استعدادکار میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے اس جدید خیال کو کامیاب بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ نجی و سرکاری شعبے کے صحت کے اداروں کا بنیادی مقصد ہی بیمار اور نادار افراد کومعیاری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ہم نے اس مقصد کیلئے آج ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کا شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ان شعبوں کی ترقی اور معیار کو بہتر کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبہ سندھ کی عوام حکومت سندھ کے اس قدم سے ضرور مستفیض ہونگی۔قبل ازیں اسپیشل سیکریٹری خالدقریشی نے اپنی تقریر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نئے آئڈیا پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس شعبہ صحت کیلئے ایک اہم اصلاح قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے آغاز کا مقصد صحت کے شعبے میں خدمات اور علاج معالجے کی سہولیات کو بہتر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت صحت مراکز کو چلانے کیلئے دلچسپی رکھنے والے اداروں کو اخبارات میں ا شتہار کے ذریعے دعوت دی گئی تھی، جس میں ملکی و غیر ملکی اداروں نے دلچسپی کا اظہار کیا اور آخر میں ڈپارٹمینٹل کمیٹی کی چہان بین کے بعد ان ادارو کو منتخب کیا گیا ہے۔

19/03/2015 - 20:57:03 :وقت اشاعت