پاکستان اور روس کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات ہیں،کنسلٹنٹ روس ٹریڈ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 12/03/2015 - 20:54:09 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 20:43:24 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 19:57:41 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 19:52:29 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 19:39:07 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 18:54:12 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 17:52:13 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 17:52:13 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 17:27:08 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 17:23:34 وقت اشاعت: 12/03/2015 - 17:10:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستان اور روس کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات ہیں،کنسلٹنٹ روس ٹریڈ کمیشن

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار . 12 مارچ 2015ء) کرا چی میں روس کے ٹریڈ کمیشن کے کنسلٹنٹ Alexey Kudryavtsev نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات ہیں۔ اس ضمن میں قونصل خانے کے ان روس کمپنیوں سے روبط ہیں جو پاکستان میں تعمیراتی مشنری اور میٹریل خصوصاً پرا نی بلڈنگز کو گرا نے والے دھماکہ خیز مواد فروخت کرنا چاہتی ہیں ۔

گزشتہ روز آباد ہاؤس میں ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز (آباد ) کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ روس کرنسی روبل سستا ہو نے کے باعث پاکستان کی تعمیراتی کمپنیاں دیگر ممالک کے مقابلے میں کم قیمتوں پر تعمیراتی مشنری اور میٹریل کی خریداری کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ روس کمپنیاں پاکستان میں مشترکہ منصوبہ بندی میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں ۔

دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے ۔ روس کمپنیاں روف فلنگز اور پری کاسٹ روفس بھی فروخت کر نے کی خواہش مند ہیں ۔ آباد کے سدرن ریجن کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن سمیت آباد کی 800 ممبر بلڈرز اور ڈیویلپرز ہیں ۔ چین سے تعمیراتی میٹریل زیادہ درآمد کیا جا رہا ہے ۔ روس کمپنیاں بھی پاکستان سے اپنی تجارت بڑھا سکتی ہیں ۔

روس کمپنیاں آباد کے زیر اہتمام ایکسپو میں بھی 18 ڈا لر فی مربع فٹ پر قیمت پر اسٹالز حاصل کر کے اپنی مصنوعات ڈسپلے کر سکتی ہیں۔ انہوں نے رو س ٹائلز ، اسپیشل گریڈ کے اسٹیل بارز ، سینٹری فٹنگز ، فینسی لائٹس اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے متعلق مشنری کی کھپت کے وسیع امکانات ہیں۔ آباد کے سابق سینئر وائس چیئرمین سلیم قاسم پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد مکانات کی قلت ہے ۔ روسی کمپنیاں کم لاگت کے مکانات کی تعمیر میں مدد دے کر اس قلت کو کم کر سکتی ہیں ۔ پاکستان میں جی ڈی پی کی نسبت ہاؤسنگ مارٹگیج خطے میں سب سے کم ہے اور اس اعتبار سے روسی کمپنیاں پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر سکتی ہیں

12/03/2015 - 18:54:12 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان